پاکستان میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان

ا

رانا مالہی
زندگی ایک نعمت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ افراد زندگی کی چھوٹی محرومیوں اور الجھنوں سے گھبرا کر اس نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہمارے معشرے کی ناہمواریوں نے معاشرتی اقدار کو اس قدر الجھادیا ہے کہ لوگ تنگ آکر خودکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
حالیہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں اس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آخر ایسی کونسی وجوہات ہوتی ہیں جو ایک انسان کو خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے؟ کیونکہ مرنے والا کتنا ہی مجبور اور غریب کیوں نہ ہو لیکن اپنی جان دینا یا اسکا سوچنا بھی کوئی ایک دن یا ہفتے کے مصائب نتیجہ نہیں ہوتا۔
عالمی ادارہ صحت کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 5000 سے 7000 لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے یہاں لوگ زندگی سے زیادہ موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس ملک کا غریب جو رقم کما کر لاتا ہے وہ بجلی اور گیس کے بلوں میں ہی پوری ہوجاتی ہے۔ خودکشی کے متعد واقعات کے پیچھے تنگ دستی، فاقہ کشی اور بےروزگاری جیسے بڑے عوامل کے علاوہ اہل خانہ کا خراب رویہ، کسی موزی مرض کا شکار ہونا، گھریلوں پریشانیاں، محبت میں ناکامی، والدین کی ڈانٹ اور امتحان میں ناکامی جیسی وجوہات شامل ہیں۔
اس طرح کی موت کے لیے لوگ جو مختلف حربے استعمال کرتے ہیں مثلًا زہریلی “کیڑےمار” دوا کا استعمال، خواب آور ادویات کا زیادہ تعداد میں کھا لینا، پانی میں چھلانگ لگانا، گولی مارنا، گاڑی کے نیچے آنا، خود کو آگ لگانا۔ خودکشی کرنے والے خود تو مرجاتے ہیں لیکن اپنے سوگواروں کے لیے کچھ رسوائیاں اور پریشانیاں چھوڑ کر نہیں جاتے۔ اگر خودکشی کرنے والا اس بات کو ذہن میں رکھے کہ میرے مرنے کے بعد میرے اہل خانہ کا کیا ہوگا تو شاہد وہ زندہ رہنے کو ترجیح دے۔
پاکستان میں خودکشی کے واقعات کی کوئی تفتیش نہیں ہوتی۔ ملک میں زیادہ خودکشی کرنے والوں کی تو رپورٹ تک درج نہیں کی جاتی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے سال ملک بھر میں خودکشی کے 300 واقعات میں صرف 33 کی ایف۔آئی۔آر درج ہوئی۔
آج اگر معاشرے میں رواداری اور عدل کی جڑیں مضبوط ہوجائیں اور لوگوں کے جملہ حقوق محفوظ ہوں تو خودکشی سمیت دیگر کئی مکروہ عوامل سے چھٹکارہ مل سکے۔

Hakeems In The Buses

By: Rana Malhi
In olden days, when medical-science was not developed as today, different diseases used to be cured by herbs. The wise people, who used these methods to treat the patients, were called Hakeems. By their treatment people were benefited in health with meagre medicine at low cost. Even today the famous Hakeem ‘Luqman’ is referred for his highly effective methods of treatment. Today, in such age when medical-science is at its peak in the history of mankind, natural herbs are widely used in some parts of the world for treatment but in our country such Hakeems are normally found in buses, carrying medicines in the bags and yelling to sell. In this way they grab some persons’ attention while others have to listen.
Such an interesting condition came before me when I was travelling in a bus, and a man sat beside me. His complexion was dark, had long moustaches, handling a black bag like school children and due to badly chewing ‘Paan’ there were lines on both sides of his mouth. We greeted with each other. As the bus left stop, he suddenly stood up and started to speak with travellers. “Assalam-o-Alikum my brothers, lend me just two minutes, paying your attention.
You are religiously aware, the liar must go to hell and God is witness, we work hard and never lie. I brought medicines for you, prepared by the formula of ‘Hakeem Waloo khan’. It is not common medicine like others in the market. It provides quick relief from pain. The actual price is 50 rupees but for travellers with consecution I give only in 40 rupees which is not a big price for the medicine like it.”
Some people were really irritated because he forced them to buy, saying ‘It will be helpful for you. You need it.’ Somehow he sold his all packets, and alighted at next stop. After he has left the bus, I asked a person sitting nearby that how do you see such Hakeems and their medicines? First he laughed then replied; ‘Now days such Hakeems are not available who benefit people.
It is the period of medical-science, who would believe them?’ Suddenly an old man with ill complexion interrupted him, ‘Son! You are young. It was our time when no doctors and hospitals were present. They were only Hakeems who cured the people in low price by natural resources. Even today when I get ill, I go to Hakeems and benefited.’
After listening both I realised that there was a time when no hospitals or doctors, with such nice facilities as today we have, were available but Hakeems. It is also right that today is the period of medical-science. In result it completely depends upon us what we choose.

بٹ کوئن کیا ہے ؟

آپ نے بٹ کوئن کے بارے میں تو سنا ہوگا۔ یہ ایک الکٹرانک  کرنسی  ہے جس کا وجود صرف اور صرف انٹرنیٹ پر موجود ہوتا ہے۔

اس کرنسی کو لیکر لوگو کے  ذہنوں میں  بہت سی باتیں ہیں۔  کچھ لوگ اسے فراڈ  کیتے ہیں  اور کچھ لوگ اسے شیطانی چال  سمجتے ہیں۔ پر کیا واقعی یہ سب سچ  ہے یا صرف منگڑت    قصے کہا نیاں ؟ اس سوال کے جواب کے  لیے ہمیں  بٹ کوئن کو باریکی سے جانچنا ہوگا۔

تعاریف

بٹ کوئن فزیکلی وجود نہیں رکھتی بلکہ یہ انٹرنیٹ پر آپ کے آن لائن والٹ میں موجود ہو تی ہے- اور یہیں سے آپ اس کو بیچ       اور خرید سکتے ہیں-

تاریخ

بٹ کوئن کی تاریخ کو اگر دیکھا         جائے تو سب سے پہلے اس کا تصور 1982 میں “ڈیوڈ چئوم” نامی ایک کمپیوٹر سائنٹسٹ نے پیش کیا ۔ اس ڈیوڈ چئوم  نے “بلئنڈ   سگنیچر   فار    انٹراسبل پئےمنٹ”کے نام سے ایک ریسرچ پیپر بھی شائع کیا جس میں اس نے بٹ کوئن کی تین خصوصیات   لکھی  جو کچھ یوں تھیں۔

1۔  پیسہ ٹرانسفر   کرتے ہوئے تیسرے شخص کو خبر نہیں ہوگی۔

2۔   پیسہ  ادا کرنے کا ثبوت بھی  موجود ہوگا اور جس کو ادا کیا جا رہا ہے  اس کی شناخت بھی معلوم ہوسکے گی۔

3-  چوری شدہ پیسہ استعمال ہونے سے روکا جا سکے گا۔

اس تصور کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے ڈیوڈ چئوم نے  “ڈیگی کیش ” کے نام سے ایک کمپنی بھی بنائی جوکامیاب نہ ہوسکی اور   90 کی دہای  کے آخر میں بند کردی گئی۔

سلسلہ یوں ہی چلا اور مختلف لوگو نے مختلف ناموں سے اس تصور کو سچ کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے ۔

سن 2008 میں “ساتوشی ناکاموٹو” ایک  ماہر کمپیوٹر   نے اس تصور کو سچ کر دکھایا  اور یہا ں سے بٹ کوئن کی ایجاد ہوئی۔

حاصل کرنے کے طریقے

بٹ کوائن حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں-ایک تو یہ کہ آپ اپنی کوئی سروس یا پروڈکٹ انٹرنیٹ پر بیچیں اور بدلے میں خریدار سے بٹ کوائن حاصل کریں-

دوسرا طریقہ بٹ کوائن مائیننگ کے نام سے جانا جاتا ہے-بٹ کوائن مائننگ کے لئیے بہت ہی زیادہ طاقت ور کمپیوٹر کو ایک ساتھ جوڑ کر ریاضی کے بہت بڑے بڑے اکیوشنز سولو کرائی جا تی ہیں جس کے بدلے میں کمپیوٹر کے مالک کو انعام کے طور پر کچھ بٹ کوائن مل جاتے ہیں-یہ طریقہ شروع میں بہت آسان ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بہت مشکل ہو جاتا ہے-

اور چند دن بعد آپ پر ایسا وقت آتا ہے کہ آپ کا خرچہ حاصل ہونے والے بٹ کوائن سے زیادہ ہو جاتا ہے-

قیمت

بٹ کوئن  کی  قیمت کے اتار چڑہاو کا معملہ عام پیسے سے مختلف ہے۔ دراصل بٹ کوئن کی طرف لوگو کا  رجحان فیصلہ کرتا  ہے کے اس کی قیمت کیا ہوگی۔ یعنی جتنے لوگ اس کو خریدیں گے اتنی ہی اس کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔  نومبر 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق  ایک بٹ کوئن کی قیمت   چار ہزار دو سو اٹھتر “4278”ڈالر ہے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے  پانچ لاکھ  چوہتر ہزار دو سو پچپن   “574255”روپے بنتی ہے۔

فوائد

چلیے ذرہ اس کرپٹو کرنسی کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں۔

۱۔  پئمنٹ کے لیے کہیں جانا آنا    نہیں پڑے گا۔

۲۔  سرحد پار پیسہ بھجنے کے لیے رقم تبدیل نہیں کروانی پڑے گی۔

۳۔    رقم بھجنے اور وصول کرنے والوں کے درمیان کوئی تیسرا حائل نہیں ہوگا۔

۴۔ آپ کا پیسہ محفوظ رہے گا۔

۵۔  پیسہ بھجنے پر نا ہونے کے برابر ٹیکس لاگو ہوگا۔

۶۔  نوٹ،سکے ،کریڈٹاور ڈیبٹ کارڈز جیسی چیزوں کو سنبھالنا نہیں پڑے گا۔

۷۔ جس کی پہنچ  میں انٹرنیٹ اس کی پہنچ مین کرپٹو کرنسی۔

۸۔ بینک یاکسی بھی فنڈز ٹرانسفر کرنے والے ادارے کو اپنی ذاتی معلومات دینی پڑتی ہے، جبکہ بٹ کوئن کے  ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔

نقصانات

جہان بٹ کوئن کے بہت فائدے ہیں وہیں اس کے نقصانات بھی ہیں ۔ تو چلیے کچھ ان کا بھی تزکرہ کرلیتے ہیں۔

۱۔  بٹ کوئن  کو کمانے سے لیکر جمع کرنے اور استعمال  کرنے تک ایک مشکل کڑی ہے جسے سمجھنے کے لیے محنت کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت ، موبائل    اور انٹرنیٹ کا استعمال آنا بھی  زروری ہے۔ یعنی جس  ادارے میں ملازمین پڑےلکھے نہیں اس ادارے کے لیے بٹ کوئن نہیں۔

۲۔  انٹرنیٹ موجود نہیں تو  بٹ کوئن نہیں۔

۳۔  اب تک بٹ کوئن استعمال کرنے والے کاروباری حضرات اور بینکس بہت کم تعداد میں ہیں، جس کی وجہ سے بٹ کوئن   استعمال کرنے والوں کے لیے دائرہ کاربہت چھوٹا ہے۔

۴۔   بٹ کوئن کی قیمت یکسا نہیں رہتی ۔ حالات کے حساب سے یہ کبھی بھی اپنی  قدر کھو سکتا ہے اور پہلے سے زیادہ حاصل بھی کر سکتا ہے۔

کچھ مزید حقائق

۱۔  بٹ کوئن کی پہلی قیمت مارچ 2010 میں لگی تھی  جو صرف 0۰03 ڈالر تھی اور پاکستانی  لحاظ یہ قیمت   4روپے بنتی ہے۔

۲ ۔بٹ کوئن سے سب سے پہلے جو چیز خریدی گئی وہ پیزا کے  دو ڈبےتھے  جن کے  لیے  خریدار نے 10،000 بٹ کوئن دے ڈالے۔

۳۔   بٹ کوئن  ایک ایسی کرنسی ہے جو ہر ملک میں کام کرتی ہے ۔

۴۔   ایک عام گھر ایک ہفتے میں جتنی بجلی استعمال کرتا ہے ، اتنی بجلی ایک بٹ کوئن ٹرانسفر کرنے میں لگتی ہے۔

۵۔ بٹ کوئن  ایک جگہ سے دوسری جگہ   ٹرانسفر کرنے کے دوران کوئی بینک اور حکومتی ادارہ درمیان میں حاءل نہیں ہوتا۔

۶۔  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے   پاکستان میں بٹ کوئن    پر پابندی  عائد کی  ہوئی  ہے ۔

حرف آخر

اس بات میں کوئی شک نہیں کے بٹ کوئن  انسان کی  بہت سی مشکلات کو حل کرنے  او ر وقت بچانے   میں نہایت مددگارگر ثابت ہوگا۔  اس کا ایک فائدا ہے بھی ہو گا کہ  جیب مین نوٹوں اور سکوں کی چھن چھن سے بھی جان  چھوٹ جائے گی۔  لیکن  اگر اس کرنسی کا صحیح استعمال نہ کیا گیا تو  مستقبل میں مسائل کا سامنہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ امید ہے کی یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقتوں میں    انسان کے لیے کار گر  ہو۔