انسان اور کتابیں

کہتے ہیں کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں  ۔ لیکن آج کے انسان نے شائد اس دوست سے قطع تعلقی کرلی ہے۔آج کے تکنیکی دور میں زندگی اتنی تیزی سے گزر رہی ہےکہ ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔


آج کے لوگوں کا انحصار مصنوعی آلات پر ہے جس کی وجہ سے آج کے لوگ سستی کا شکار ہو گۓ ہیں،اور ان کا تخلیقی عمل بھی ایک طرح سے سست ہو چکا ہے۔انہی ألات کی وجہ سے آج کے لوگ کتابوں سے بھی دور ہو چکے ہیں اور ان کا سارا وقت انٹرنیٹ پر وقت صَرف کرتے ہوۓ گزرتا ہے۔ 


اگر کچھ سال پہلے کی بات کی جاۓ تو پہلے کےلوگوں کو ان مصنوعی آلات کی بہت زیادہ عادت نہیں تھی اور وہ اپنا فارغ وقت اچھی اور معیاری کتابیں پڑھ کر گزارتے تھے، جس کی وجہ سے ان کا زہن اچھا کام کرتا تھا اور وہ لوگ کتابوں کی اہمیت کو اچھے سے جانتے تھے ان کی نسبت اگر آج کے نوجوان کو دیکھا جاۓ تو یہ کتابوں سے دور بھاگتے ہیں اور ان کا کتابیں پڑھنے کا شوق ایک طرح سے ختم ہو چکا ہے۔ اج کے دور میں کتابوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو کہ کتابوں کو دینی چاہیے۔

ملک کی ترقی میں کتابیں بہت اہم کردار کرتی ہے۔ ان کی وجہ سے ہی ہم لوگوں میں شعور اجاگر کر سکتے ہیں اور اسی کی وجہ سے لوگ ملک کی ترقی میں اہم کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔ 
ہمیں چاہیۓ کہ ہم ایسے پروگرام منعقد کروایں جن میں کتابوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جاۓ ایسے بک فیسٹول کرواۓ جائیں جن میں معیاری کتابوں کے بارے میں بتایا جاۓ ہمیں اپنا وقت مقرر کرنا چاہیے, جس میں ہم کتابوں کا مطالعہ کریں۔ جس سے ہماری زہنی نشونما بہتر ہو سکے۔کتابیں تخیلات میں پرواز کا وسیلہ ہے۔

ایمسٹ ہیمنگوے کا قول ہے “کتابوں سے ذیادہ وفادار کوئ دوست نہیں”۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: