بٹ کوئن کیا ہے ؟

آپ نے بٹ کوئن کے بارے میں تو سنا ہوگا۔ یہ ایک الکٹرانک  کرنسی  ہے جس کا وجود صرف اور صرف انٹرنیٹ پر موجود ہوتا ہے۔

اس کرنسی کو لیکر لوگو کے  ذہنوں میں  بہت سی باتیں ہیں۔  کچھ لوگ اسے فراڈ  کیتے ہیں  اور کچھ لوگ اسے شیطانی چال  سمجتے ہیں۔ پر کیا واقعی یہ سب سچ  ہے یا صرف منگڑت    قصے کہا نیاں ؟ اس سوال کے جواب کے  لیے ہمیں  بٹ کوئن کو باریکی سے جانچنا ہوگا۔

تعاریف

بٹ کوئن فزیکلی وجود نہیں رکھتی بلکہ یہ انٹرنیٹ پر آپ کے آن لائن والٹ میں موجود ہو تی ہے- اور یہیں سے آپ اس کو بیچ       اور خرید سکتے ہیں-

تاریخ

بٹ کوئن کی تاریخ کو اگر دیکھا         جائے تو سب سے پہلے اس کا تصور 1982 میں “ڈیوڈ چئوم” نامی ایک کمپیوٹر سائنٹسٹ نے پیش کیا ۔ اس ڈیوڈ چئوم  نے “بلئنڈ   سگنیچر   فار    انٹراسبل پئےمنٹ”کے نام سے ایک ریسرچ پیپر بھی شائع کیا جس میں اس نے بٹ کوئن کی تین خصوصیات   لکھی  جو کچھ یوں تھیں۔

1۔  پیسہ ٹرانسفر   کرتے ہوئے تیسرے شخص کو خبر نہیں ہوگی۔

2۔   پیسہ  ادا کرنے کا ثبوت بھی  موجود ہوگا اور جس کو ادا کیا جا رہا ہے  اس کی شناخت بھی معلوم ہوسکے گی۔

3-  چوری شدہ پیسہ استعمال ہونے سے روکا جا سکے گا۔

اس تصور کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے ڈیوڈ چئوم نے  “ڈیگی کیش ” کے نام سے ایک کمپنی بھی بنائی جوکامیاب نہ ہوسکی اور   90 کی دہای  کے آخر میں بند کردی گئی۔

سلسلہ یوں ہی چلا اور مختلف لوگو نے مختلف ناموں سے اس تصور کو سچ کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے ۔

سن 2008 میں “ساتوشی ناکاموٹو” ایک  ماہر کمپیوٹر   نے اس تصور کو سچ کر دکھایا  اور یہا ں سے بٹ کوئن کی ایجاد ہوئی۔

حاصل کرنے کے طریقے

بٹ کوائن حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں-ایک تو یہ کہ آپ اپنی کوئی سروس یا پروڈکٹ انٹرنیٹ پر بیچیں اور بدلے میں خریدار سے بٹ کوائن حاصل کریں-

دوسرا طریقہ بٹ کوائن مائیننگ کے نام سے جانا جاتا ہے-بٹ کوائن مائننگ کے لئیے بہت ہی زیادہ طاقت ور کمپیوٹر کو ایک ساتھ جوڑ کر ریاضی کے بہت بڑے بڑے اکیوشنز سولو کرائی جا تی ہیں جس کے بدلے میں کمپیوٹر کے مالک کو انعام کے طور پر کچھ بٹ کوائن مل جاتے ہیں-یہ طریقہ شروع میں بہت آسان ہوتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بہت مشکل ہو جاتا ہے-

اور چند دن بعد آپ پر ایسا وقت آتا ہے کہ آپ کا خرچہ حاصل ہونے والے بٹ کوائن سے زیادہ ہو جاتا ہے-

قیمت

بٹ کوئن  کی  قیمت کے اتار چڑہاو کا معملہ عام پیسے سے مختلف ہے۔ دراصل بٹ کوئن کی طرف لوگو کا  رجحان فیصلہ کرتا  ہے کے اس کی قیمت کیا ہوگی۔ یعنی جتنے لوگ اس کو خریدیں گے اتنی ہی اس کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔  نومبر 2018 کے اعدادوشمار کے مطابق  ایک بٹ کوئن کی قیمت   چار ہزار دو سو اٹھتر “4278”ڈالر ہے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے  پانچ لاکھ  چوہتر ہزار دو سو پچپن   “574255”روپے بنتی ہے۔

فوائد

چلیے ذرہ اس کرپٹو کرنسی کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں۔

۱۔  پئمنٹ کے لیے کہیں جانا آنا    نہیں پڑے گا۔

۲۔  سرحد پار پیسہ بھجنے کے لیے رقم تبدیل نہیں کروانی پڑے گی۔

۳۔    رقم بھجنے اور وصول کرنے والوں کے درمیان کوئی تیسرا حائل نہیں ہوگا۔

۴۔ آپ کا پیسہ محفوظ رہے گا۔

۵۔  پیسہ بھجنے پر نا ہونے کے برابر ٹیکس لاگو ہوگا۔

۶۔  نوٹ،سکے ،کریڈٹاور ڈیبٹ کارڈز جیسی چیزوں کو سنبھالنا نہیں پڑے گا۔

۷۔ جس کی پہنچ  میں انٹرنیٹ اس کی پہنچ مین کرپٹو کرنسی۔

۸۔ بینک یاکسی بھی فنڈز ٹرانسفر کرنے والے ادارے کو اپنی ذاتی معلومات دینی پڑتی ہے، جبکہ بٹ کوئن کے  ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔

نقصانات

جہان بٹ کوئن کے بہت فائدے ہیں وہیں اس کے نقصانات بھی ہیں ۔ تو چلیے کچھ ان کا بھی تزکرہ کرلیتے ہیں۔

۱۔  بٹ کوئن  کو کمانے سے لیکر جمع کرنے اور استعمال  کرنے تک ایک مشکل کڑی ہے جسے سمجھنے کے لیے محنت کے ساتھ ساتھ تعلیمی قابلیت ، موبائل    اور انٹرنیٹ کا استعمال آنا بھی  زروری ہے۔ یعنی جس  ادارے میں ملازمین پڑےلکھے نہیں اس ادارے کے لیے بٹ کوئن نہیں۔

۲۔  انٹرنیٹ موجود نہیں تو  بٹ کوئن نہیں۔

۳۔  اب تک بٹ کوئن استعمال کرنے والے کاروباری حضرات اور بینکس بہت کم تعداد میں ہیں، جس کی وجہ سے بٹ کوئن   استعمال کرنے والوں کے لیے دائرہ کاربہت چھوٹا ہے۔

۴۔   بٹ کوئن کی قیمت یکسا نہیں رہتی ۔ حالات کے حساب سے یہ کبھی بھی اپنی  قدر کھو سکتا ہے اور پہلے سے زیادہ حاصل بھی کر سکتا ہے۔

کچھ مزید حقائق

۱۔  بٹ کوئن کی پہلی قیمت مارچ 2010 میں لگی تھی  جو صرف 0۰03 ڈالر تھی اور پاکستانی  لحاظ یہ قیمت   4روپے بنتی ہے۔

۲ ۔بٹ کوئن سے سب سے پہلے جو چیز خریدی گئی وہ پیزا کے  دو ڈبےتھے  جن کے  لیے  خریدار نے 10،000 بٹ کوئن دے ڈالے۔

۳۔   بٹ کوئن  ایک ایسی کرنسی ہے جو ہر ملک میں کام کرتی ہے ۔

۴۔   ایک عام گھر ایک ہفتے میں جتنی بجلی استعمال کرتا ہے ، اتنی بجلی ایک بٹ کوئن ٹرانسفر کرنے میں لگتی ہے۔

۵۔ بٹ کوئن  ایک جگہ سے دوسری جگہ   ٹرانسفر کرنے کے دوران کوئی بینک اور حکومتی ادارہ درمیان میں حاءل نہیں ہوتا۔

۶۔  اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے   پاکستان میں بٹ کوئن    پر پابندی  عائد کی  ہوئی  ہے ۔

حرف آخر

اس بات میں کوئی شک نہیں کے بٹ کوئن  انسان کی  بہت سی مشکلات کو حل کرنے  او ر وقت بچانے   میں نہایت مددگارگر ثابت ہوگا۔  اس کا ایک فائدا ہے بھی ہو گا کہ  جیب مین نوٹوں اور سکوں کی چھن چھن سے بھی جان  چھوٹ جائے گی۔  لیکن  اگر اس کرنسی کا صحیح استعمال نہ کیا گیا تو  مستقبل میں مسائل کا سامنہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ امید ہے کی یہ ٹیکنالوجی آنے والے وقتوں میں    انسان کے لیے کار گر  ہو۔

 

 

 

Leave a Reply