بینظیر برسی

آج کا میرا جو عنوان ہے جس پر میں بات کرنے جارہی ہوں وہ ایک بہت ہی مشہور شخصیت ہے جنہیں سب لوگ بہت اچھی طریقے سے جانتے ہیں ۔ آپ لوگ زیادہ زور نہ ڈالیں دماغ پر کیونکہ میں بتانے جا رہی ہوں اس مشہور شخصیت کا نام جو ہے “شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ”۔ جی یہی وہ عظیم شخصیت جنہوں نے پاکستان کے لوگوں کے خاتر کافی کچھ کیا۔ بینظیرصاحبہ ھمیشہ سے ہی میری پسندیدہ رہیں ہیں اور اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی وہ آج تک ہمارے دلوں میں موجود ہیں اور ھمیشہ رہیں گی۔ لوگ بہت جلدی آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں لیکن اگر کچھ رہ جاتا ہے تو وہ ہیں صرف یادیں جو کہ ھمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔ انکی بہادری ان کے ہر ایک انداز سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا کے عورت کا مقام کیا ہے۔انہوں نے کبھی کسے کے ساتھ نا بورا کیا نا کچھ اور اس دنیا سے جانے سے پہلے انہوں نے غریبوں کے لیے انکم ٹیکس کا کام شروع کیا جس سے غریب لوگوں کی کافی مدد ہوئ ہے اور لوگ آج بھی اس چیز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں پر کسے پتہ تھا کہ زنگی کب تک چلے گی۔ ایک دن محترمہ بینظیر لاہور گیئں وہاں انکا خطاب تھا لاہور کے ایک پارک میں۔ خطاب اچھے سے چل رہا تھا اور پھر ہوا کچھ یوں کہ جب وہ خطاب ختم کرکے جارہی تھیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھیں تو انہیں فون آیا کہ آپ گاڑی سے باہر نلکیں وہ جب نکلیں گاڑی سے تو ان کا گاڑی سے نکلنا اور انکا وہیں ایک فائر سے انتقال کر جانا سب کے لیے ناقابلِ یقین خبر تھی، انکی قسمت میں جو تھا وہ انہیں مل گیا لیکن ان کی جدائ کا غم چھوڑ گیا۔ ان کو آج انتقال کئے ہوئے گیارہ برس بیت گئے اور آج بھی انکی برسی ۲۷دسمبر کو اُس ہی جوشوجذبہ کے ساتھ منائ جاتی ہے۔ دنیا کی عظیم لیڈر آج بھی ہمیں یاد ہیں جن کی یاد میں اکثر آنکھیں نم ہو جاتیں ہیں، اللّٰہ انکی روح کو بخشیں اور انکی مغفرت فرمائیں۔ آمین۔

Leave a Reply