خسرو کی پہیلی

گیارہویں صدی عیسوی میں دو قوموں کے باہمی اختلاط و ارتباط سے اردو زبان کا آغاز ہوا. اس زبان کو تاریخی منظر میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے.جن ریختہ، ہندو ری ، اردوئے معلی ہندوستانی اور اردو ہیں. اردو زبان میں عربی اور فارسی کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں
کانوں میں رس گھولنے والی یہ میٹھی زبان جس کا نام اردو ہے زمانہ قدیم سے یہ زبان استعمال کی جا رہی ہے. جس میں 75 فیصد الفاظ سنسکرت استعمال کیے جاتے ہیں اور 25فیصد عربی زبان کے الفاظ موجود ہیں. سو ملین لوگ اس زبان کو نہ صرف بولتے ہیں بلکہ اس کے اہمیت کو بھی جانتے ہیں. اردو کے الفاظ کو سب سے پہلے جناب غلام ہمدانی مشافی نے سترہ سو اسی میں استعمال کیا. اردوزبان نہایت ہی منفرد اور خوبصورت لفظوں کا مجموعہ ہے
اس بات کی دلیل بہت سارے نیوروفزیشن نے دی ہے، کہتے ہیں کہ اردو زبان کی ساخت اور لفظوں کی ادائیگی اس قدر منفرد ہے کہ سیکھنے والے کے دماغ کو روشن کرتی ہے. جس سے دماغ کی نشونما میں مدد ملتی ہے. اردو زبان کی اہمیت عیاں ہے ویسے تو کافی ممالک میں لوگ اس کو جانتے اور سمجھتے ہیں لیکن اس سے محبت کرنے والے زیادہ تر لوگ پاکستان اور انڈیا میں رہتے ہیں.
لگ بھگ سو ملین لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں. اردو زبان پاکستان کی قومی زبان ہے باوجود اس کے کہ ہم اس کو اہمیت دیں ہم اس کا مقام گراتے چلے جا رہے. دنیا کے نامور لکھاری جن کا تعلق اردو ادب سے ہے. انہوں نے اردو زبان کی بنیادوں کو مضبوطی سے کھڑا کیا. اس کی مضبوطی کو قائم رکھنا زیادہ مشکل نہ تھا لیکن ہم چونکہ غلام تھے غلام ہیں اور غلام ہی رہیں گے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

ہم نے اردو کے زیرسایہ رہتے ہوئے بھی اہمیت انگریزی کو ہی دی ٹھیک ہے ہم مانتے ہیں کہ انگریزی زبان عالمی زبان ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انگریزوں نے جب اپنی زبان کو اہمیت دی تب ہی ان کی زبان کو عالمی زبان کا درجہ ملا لیکن ہم نے اپنی زبان اردو کو ذاتی طور پر نظرانداز کرنا شروع کردی.ا تو اس کے الفاظ اس کی اہمیت بھی دھندلی ہوتی گئی. بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم نے اردو کا جنازہ اتنی دھوم سے نکالا ہے کہ جس کے ساتھ ہم خود بھی دفن ہوتے جارہے ہیں اور ہمیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہے.

المختصر اردو کا دوسری زبانوں سے رشتے کی نوعیت واضح ہے. یہ رشتے جہاں اردو کی دیگر زبانوں کے الفاظوں کو کو اپنانے کی خوبی کو ظاہر کرتے ہیں. وہیں دوسری زبانوں سے اخذ و استفادہ کرنے کی خوبی کی فراخدلی کا کھلا ثبوت ہے. لہذا اگر یہ کہا جائے کہ اردو مشترکہ اقدار اور گنگا جمنا تہذیب کی علمبردار تو بے جا نہ ہوگا

-ماہین اختر

Leave a Reply

%d bloggers like this: