ساحل سمندر پر ایک شام

کراچی میں رہتے ہوئے سمندر سے دوری زیادہ دن برداشت نہیں کی جا سکتی، پچھلے دنوں مجھے بھی سمندر کی یاد آنے لگی تو میں نے اپنی پیر کی شام کو سمندر کے نام کرنے کا ارادہ کر لیا. تیار ہوئی چابی اٹھائی اور نکل پڑے ساحلی سمندر کی طرف,راستے میں رواں دواں ٹریفک شہر کی رونق کا ثبوت تھا ۔اتنے میں ایک سگنل پر گاڑی روکی اور سامنے موون پِک ہوٹل نظر آنے لگا سگنل کھلنے کا انتظار کر رہی تھی کہ ہوٹل کے عین سامنے ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی بھیک مانگ رہی تھی اور اس کے سامنے مہنگی مہنگی گاڑیاں ہوٹل میں داخل ہو رہی تھی اس معاملے میں کچھ اور سوچتی،اس سے پہلے ہی سگنل کھل گیا اور پیچھے کھڑی گاڑیوں کے ہارن نے مھجے سوچ سے باہر نکال دیا۔ اور میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ کچھ ہی دیر میں مجھے سمندر نظر آنے لگا اور میکڈونلڈز سے تھوڑا آگے میں نے اپنی گاڑی پارک کر دی۔ گاڑی سے اتری اور پتھر سے بنی دیوار پر کچھ دیر بیٹھی۔ سمندر کی ہوا بالوں کو رقص کروانے میں مصروف تھی جبکہ نظروں کے سامنے پانی ہی پانی تھا جو کہ یہیں سے دیکھا جا سکتا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ یہاں تک آئے اور پانی نہ چھوا تو کوئی فائدہ ہی نہیں! پھر تو میں اتری اور مٹی پر پاؤں جمائے سمندر کی طرف بڑھنے لگی۔ چلتے اونٹ ،رنگ برنگی سجی ہوئی گاڑیاں اور گھوڑے اپنی اپنی روزی کی تلاش کررہے تھے۔ چل ہی رہی تھی کہ گول گپے کے اسٹول نے قدم روک لئے اور دل کش مکش میں پڑ گیا کہ پہلے پانی کو چھوا جائے یا گول گپے کے مزے اڑائے جائیں۔ پھر خیال ہوا کہ جو قریب ہے اُسی کا مزہ لے لیتے ہیں۔ میں نے فورن سے گول گپے والے بھیا سے ایک پلیٹ لگوائی اور کھائی۔ یہاں اس کے علاوہ آئس کریم، برگر اور بہت سے اور اسٹورز موجود تھے. ان سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میں سمندر کے پاس جا پہنچی اور جیسے ہی پانی نے پیروں کو چھوا ایک الگ سی راحت محسوس ہوئی اور میں وہیں بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بیٹھی ہی تھی کہ اچانک فون بجا پِک کیا تو ‏امی کی آواز سنائی دی گھر آو جلدی بہت لیٹ ہو گئیں اور میں بس اچھا جی ہی کہہ سکیں اور وہی رہ جانے کی خواہش کے ساتھ دوبارہ گھر آ گئی. 

سیدہ شاداب،

کراچی۔


Leave a Reply

%d bloggers like this: