فضائی آلودگی کے انسانی جان پر خطرناک اثرات

فضائی آلودگی میں جہاں کارخانوں اور فیکٹریوں کا بڑا ہاتھ ہے وہیں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں اور رکشوں سے خارج ہونے والے دُھویں کے باعث بھی فضائی آلودگی پھیلتی ہے یہ دُھواں سگریٹ کے دھویں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جسکا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے۔
فضائی آلودگی کے جہاں منفی اثرات انسانی زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں وہیں ہماری زراعت بھی اپنا دامن نہیں بچا پائی ، فضا میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے فصلیں بے جان ہو رہی ہیں اور رہی سہی کسر تیزابی بارشیں پوری کر رہی ہیں جوکہ فضائی آلودگی کے باعث برستی ہیں یہ زہریلی بارشیں انسانوں اور فصلوں کا ہی مقدر نہیں بلکہ جانور بھی اسکا شکار ہو رہے ہیں۔
اسکے علاوہ شور مچانے والے دیگر وسائل بھی شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کو بھی اپنی زد میں لے چُکے ہیں اب گاؤں دیہات میں بھی ٹریکٹر ٹرالی، ڈیزل پمپ اور ٹی وی سیٹ عام ہو چُکے ہیں جسکے باعث فضائی آلودگی دیہاتوں میں بھی جنم لے رہی ہے۔

دُنیا کے کئی ممالک میں بسوں اور ٹرکوں میں پریشر ہارن لگانے پر پابندی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسے ہارن شہروں میں شوقیہ ڈرائیور بجا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں اور بڑے شہروں کراچی، لاہور اور پشاور میں شور سے پیدا ہونے والی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چُکی ہے اس سے انسان کے بہرے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ شور سے ہماری قُوتِ سماعت ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ کام کرنے کی صلاحیت میں بھی کمی آجاتی ہے، زہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور بے خوابی کی وجہ سے مختلف امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اگر یہی صورتِ حال رہی اور شور سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش نا کی گئی تو اس صدی کے ختم ہوتے ہوتے لاتعداد افراد مختلف قسم کی سماعتی اور اعصابی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے ۔ یہ فضائی آلودگی پاکستان سمیت پوری دنیا کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ دنیا کو فضائی آلودگی سے بچانے کی لئے سارے ملکوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا کیونکہ یہ آلودگی کسی مخصوص خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام ملکوں کا اجتماعی مسئلہ ہے لہذاَ تمام ممالک کو چائیے وہ دھواں چھوڑنے والی تمام فیکٹریوں اور کارخانوں کو آبادی سے دور مُنتقل کریں اور ان فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں میں شامل کثافتوں کو صاف کرنے کے لئے خصوصی پلانٹ لگائیں جس سے فضا میں آلودگی پھیلنے کا خطرہ نہ ہو۔اس کے علاوہ ایسی تکنیک ایجاد کی جائے کہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے دھویں کو کنٹرول کیا جا سکے اس معاملے میں شمسی توانائی بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سائنسدانوں کو اسکی طرف زیادہ سے زیادہ سے توجہ دینی چاہئے تاکہ فضا میں پھیلی آلودگی کو کم کیا جا سکے اور جس قدر ممکن ہو دنیا کو تباہی سے بچایا جا سکے اور سب مل کر ایک صحت مند معاشرے کو تشکیل دیں کیونکہ یہی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔۔

Leave a Reply