لوڈشیڈنگ

آج کل کے دور میں لوڈشیڈنگ بہت عام ہو چکی ہے ۔جس کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں ۔زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے مشکلات کا سامنا ہے چاہے وہ اسٹوڈنٹ ہوں کاریگر ہوں دکاندار ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد سب کو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مشکلات اٹھانی پڑ رہی ہے ۔


لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے اور کاروبار بھی ٹھپ ہو گئے ہیں فیکٹریاں بند ہو گئی ہے کیوں کہ سارا کام ہی بجلی سے ہوتا ہے چاہے وہ درزی ہو یا عام دکاندار ہو سب لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر طالبعلم اپنا سبق یاد نہیں کر پاتا اور امتحان میں چیٹنگ کرتا ہے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے امتحاں کی تیاری صحیح سے نہیں کر پاتے ایک اسٹوڈنٹ کے لئے بہت پریشانی کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ اسٹوڈنٹ اپنا ہر کام نیٹ اور موبائل فون کے ذریعے کرتا ہے اب اگر اس موقع پر لائٹ نہ ہو تو کیسے ایک طالبعلم آگے بڑھے گا اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچے گا لوگ کہتے ہیں کہ زندگی ہے تو جہاں ہے لیکن ادھر یہاں یہ کہنا پڑے گا کے لائٹ ہے تو جہاں ہے کیونکہ اگر لائٹ نہ ہو تو پانی بھی نہیں ہوگا کیونکہ موٹر لائٹ سے ہی چلتی ہے ۔


عام طور پر اگر دیکھا جائے تو جو لوگ امیر گھرانے سے ہیں یا افورڈ کرسکتے ہیں ان کے لئے تو زندگی بہت آسان ہے ۔لیکن وہ لوگ جو بے حد غریب ہیں اور عام طبقہ وہ جنریٹر یا یو پی ایس وغیرہ افورڈ نہیں کرسکتے دیکھا جائے تو امیر کی اولاد تو نواب کے بچوں کی طرح زندگی گزار رہی ہے لیکن ان کو اتنا بھی احساس نہیں ہوتا کہ غریبوں کی بھی کچھ مدد کر دی جائیں ان کے گھر میں بھی یو پی ایس یا جنریٹر وغیرہ لگا دیا جائے لیکن نہیں ایسا کیوں سوچیں گے وہ کیوں وہ چاہیں گے کہ غریب کا فائدہ ہو کیوں ہو چاہیں گے کہ ایک غریب آگے بڑھے ان کو تو بس پروا ہی صرف اپنی ہے لوگ کہتے ہیں کہ گورنمنٹ کو چاہیے گورنمنٹ کو چاہیے لیکن گورنمنٹ تو شروع سے ہی کرپٹ ہے کیا کرے گی ایسی گورنمنٹ جو اپنی عوام کو ہی بار بار بنائے جا رہی ہیں اور ہماری بے چاری معصوم عوام بن بھی رہی ہے ۔ہمیں چاہیے کہ بس دعا کریں دعا کے علاوہ تو اور کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم سب کو پتہ ہے کہ ہماری گورنمنٹ کیسی ہماری حکومت کیسی ہے ۔

Leave a Reply