معاشرےمیں عورتوں کو پیش مسائل

عورت انسانی معاشرے کا ایک حصہ ہے،صرف مرد یا عورت سےمعاشرہ تشکیل نہیں ہوسکتا اس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے میں عورت کے مقام اور حقوق کو یا اس کی حیثیت کو مجروح کرکے اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

معاشرے میں عورت کے مقام اور حقوق کو یا اس کی حیثیت کو مجروح کرکے اس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

عورت ہر جگہ ایک مظلوم صنف کی حیثیت رکھتی ہے اور مردوں کے ظلم وجبر کا شکار بنی ہوئی ہے، عورت کے حقوق اور اس کا مقام بعض اعتبارسے جانوروں سے مختلف نہیں، دور جاہلیت میں عورتیں انسان اور حیوانات کے درمیان ایک مخلوق سمجھی جاتی تھیں، جس کا مقصد نسل انسان کو بڑھانا اور مرد کی خدمت کرنا تھا، اسی وجہ سے لڑکیوں کی پیدائش کو باعث شرم تصور کیا جاتا اور بعض علاقوں میں تو اس کو پیدا ہوتے ہی مار بھی دیا جاتاتھا مگر اسلام نے عورت کومعاشرے میں ایک بلند اور محفوظ مقام دیاہےاور عورتوں کو ان کے حقوق دیئےگئے تاکہ ان کی خواہشات کا گلا نہ گھونٹاجائے۔

عورت گھر کی زینت ہوتی ہے اور زندگی کے ہر معاملات میں عورت کی رائے پوچھنا لازمی ہے،سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب ہمارامذہب اسلام عورتوں کو ان کے مکمل حقوق دیتا ہے توہم اورآپ اس سے اختلاف کرنے والے کون ہوتے ہیں؟اس کے باوجود ٹیلی ویژن اور اخباروں میں عورتوں کے ساتھ کئے جانے والے غیر اخلاقی واقعات کی خبریں منظرعام پرآتی رہتی ہیں۔

ہم روز مرہ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات پڑھتے ہیں کہ کسی عورت کو جائیداد سے بے دخل کردیا جاتاہے، کسی عورت کو اس کے بچے سے علحیدگی پر مجبور کیا جاتاہےاور کہیں تو کسی عورت کو پیسوں کی خاطر بیچ بھی دیا جاتاہے۔اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ نہ کل عورت کے پاس حقوق تھے اور نہ ہی آج ہیں۔اس سے اندازہ لگائیں تو کیا ہمارے معاشرے میں عورت کو اس کےحقوق دیے جارہےہیں؟۔

پاکستان میں عورتوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہےجن میں تعلیم سے محروم رکھنا، نوکری کرنے کو برا سمجھا جانابھی ہے،جبکہ ہمارے ملک میں عورتوں سے ساتھ پیش آنے والے مسائل میں ایک سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی چھوٹی عمر میں شادی کرادی جاتی ہےجو انکےحقوق پر سب سے بڑا ڈاکا ہے، اس کے علاوہ عورتوں کی ملازمت بھی ایک سوالہ نشان بنی ہوئی ہے۔
اس ترقی یافتہ دورے میں بھی معاشرے میں عورت کے گھر سے باہر ملازمت کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا،اس سلسلے میں مختلف طریقوں سے روکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں،جس کی وجہ سے عورت کومشکلات کا سامنا کرناپڑجاتاہے حلانکہ معاشرے کا ہر فرد اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ عورت زندگی کی گاڑی کا پہیہ ہے لیکن اپنی جھوٹی شان وشوکت،فرسودہ رسم ورواج اور انا کی تسکین کے کیلئے عورت کو ذہنی وجسمانی طور پر تکلیف دی جاتی ہے، جس معاشرے میں عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کا موقع دیا گیا تو آج وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔جبکہ ایسے ممالک دینا کے ترقی یافتہ ممالک میں تصور کیے جاتےہیں مگر ہمارے معاشرےمیں حالات اس کے برعکس ہیں یہاں کبھی عورت پر آوازیں کسی جاتی ہیں تو کبھی نظروں سے ذہنی پریشانی دی جاتی ہےلیکن پھر بھی عورت صبروتحمل سے کام لیتی ہے اور معاشرے کے ظلم وستم بھی سہتی ہے۔

Leave a Reply