ناول حاصل کا تنقیدی جائزہ

ایک لمہ بس باقی سب کچھ گزر جاتا ہے وہ ایک لمحہ جو ٹھہر جاتا ہے نا وہی زندگی کو ایسا بدل کر رکھ دیتا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ ساری تبدیلیاں کیسے ہوگئی ہم دیکھتے رہ جاتے ہیں اور وقت ہاتھ سے ریت کی طرح فھسنل جاتا ہے اور بس باقی رہ جاتا ہے تو صرف پچھتاوا اور پچھتاوا بہت تکلیف دیتا ہے پل پل لمحہ لمحہ انسان جیتا اور مرتا ہے یہ پچھتاوا وہی ہے جو وقت نکل جانے کے بعد ہر انسان کو ہوتا ہے اور ایسا ہی حدید کے ساتھ ہوا جی ہاں میں اسی مرکزی کردار جدید کی بات کر رہی ہوں جوحاصل ناول کا ایک مرکزی کردار ہے جو نفرت حقارت اور دھوکے کھاتے کھاتے مکمل طور پر ٹوٹ گیا ہے جب میں نے یہ ناول پڑھا تو اس کی تحریر پر میری آنکھیں نم ہوگئیں اور بہت مشکل لگا کہ میں اس ناول کو پورا پڑھ سکو گی؟ یہ میرے لیے بھی ایک سوال تھا

یہ ناول دو مرکزی کردار ثانیہ اور جدید پر مشتمل ہے جو مذہب کو ایک دھوکہ اور فریب سمجھتے ہیں

اور زندگی کے حالات سے تنگ آکر دوسرے مذاہب میں زندگی کا سکون تلاش پڑتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جب اندرونی سکون نہ ہو تو دنیا کے کسی بھی مذہب میں زندگی کا سکون تلاش کرنا ایک دھوکا ہے اس ناول کے کردار دلچسپ ہیں  اور مصنفہ حمیرا احمدکا طریقہ اس ناول کی حقیقی جان ہے یہ کہانی

منحصر مذہب پر اور مصنفہ سے اس تحریر کے ذریعے ہمیں ہمارے اور اللہ کے درمیان تعلق کو یاد لاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں تو اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کے آگے گڑگڑا کر دعا مانگتے ہیں اس ناول میں بھی اس طرح کے مختلف کردار ہیں مگر جو کردار مجھے پسند آیا وہ ثانیہ کیوں کے اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں غلط ہے اور وہ ہی  حدیدکو بھی صحیح راستہ دکھاتی ہے اور اسے سمجھاتی ہیں کہ حالات کیسے بھی ہوں ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیےتبہی ہم سکون حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی دی ہوئی نعمت جان سکتے ہیں

اور میں اس کہانی سے بہت لطف اندوز ہوئیں اس کہانی میں زندگی کی ہر پہلو کو واضح طور پر دکھایا گیا ہیں کہ کس طرح انسان سکون امن اور خدا کی تلاش میں کن مراحل سے گزرتا ہیں۔

Leave a Reply