ٹریفک سنگین مسئلہ

پاکستان میں ٹریفک کا حال اتنا بگڑ چکا ہے کہ کسی سلجھے ہوئے ڈرائیور کے لیے یہاں کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا تقریب ناممکن ہے۔ آپ کسی ڈرائیور سے کچھدیر ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر بات کر کے دیکھ لیں۔ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ جہاں سڑکوں کا حال آہستہ آہستہ کافی بہتر ہوتا جا رہا ہے وہیں بےہنگم ٹریفک کا رش بھی اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سڑک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام ہونے لگا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ حادثات کی منحوس خبریں میڈیا کیبریکینگ نیوز کی شوبھا نہ بڑھاتی ہوں۔

شہروں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود سڑکوں کو شہری ضروریات کے مطابق اب بھی پورا نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام میں پھنسے لوگ روز ہی اس مصیبت سے دوچار رہتےہیں۔ پھر سڑکوں پر آئے دن گاڑیوں کا خراب ہونا، ایکسڈنٹ ہونا، گدھا گاڑیوں کی کم رفتار، سائیکل، موٹر سائیکل کا اچانگ سڑک کے بیچوں بیچ آجانا، پیدل چلنے والے حضرات کا اچانک تیز رفتارگاڑیوں کے سامنے سے سڑک پار کرنا، سڑکوں پر آئے دن جلوس نکالنا وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے اور ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرےکا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔

 اسی طرح ماحول میں پلوشن pollution بھی اس ٹریفک کی وجہ سے اتنا بڑھ گیا ہے کہ کئی لوگوں کو گلے اور آنکھوں کی سوزش رہنے لگتی ہے اس کے علاوہ دیگربھی مسائل پیش آتے رہتےہیں۔ بچے اس بے ہنگمٹریفک کی وجہ سے نہ تو اسکول سیفٹی safety کے ساتھ آجا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر کھیل سکتے ہیں جو بچوں کی نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان میں ہر قسم کی موٹر گاڑیوں کی تعداد پیتالیس لاکھ کے قریب ہے جبکہ اس تعداد کا تقریباً ایک تہائی یعنی چودہ لاکھ گاڑیاں صرف کراچی میں چلتی ہیں۔ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے جہاں فضائی آلودگی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے وہیں گاڑیوں کی پارکنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی کئی ایک مسائل کا سامنا ہے۔ پارکنگ کے لئے کوئی مخصوص جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مصروف شاہراہوں پر ہی اپنی گاڑیوں کو پارک کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہمیں گھنٹوں ٹریفک جام اور ہولناک حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹریفک جام ہونے کے باعث شہریوں کو منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے،اس کے علاوہ اگر کوئی نوکری پر ڈاکٹر کے پاس چیکنگ کیلئے جارہا ہوتا ہے تو وہ بھی ٹائم پر نہیں پہنچ پاتا کیوں کہ پورے راستے ٹریفک سے کھچاکھچ بھرے رہتے ہیں۔اس  کے علاوہ ٹریفک کی وجہ سے مریض بھی ٹائم پر اسپتال نہ پہنچ پانے کے باعث موت کو گلے لگالیتےہیں۔

Leave a Reply