پسماندہ علاقوں میں تعلیم کا رجحان

پاکستان میں تقریباَ ۳۲؍فیصد گریجویٹ روزگار کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ۳۵؍فیصد گریجویٹ صرف کلرک کی نوکری کے قابل ہیں۔ ۱۵؍فیصد گریجویٹ ہی بہتر روزگار کے لائق ہیں۔ پانچویں کا طالب علم دوسری کلاس کا حساب نہیں لگاسکتا۔ اس لیے ہائر ایجوکیشن میں آتے آتے یہ نوجوان بے کار ہوجاتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن میں انرولمنٹ پاکستان میں اٹھارہ فیصد ہے۔ یعنی ایک تو دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے اور اس میں بھی ۳۲؍فیصد بے کار ہیں۔ اپنی زندگی کا پندرہ سال تعلیم میں خرچ کرنے کے بعد بھی ۵۵؍فیصد گریجویٹ صرف ۵۰ ہزار کماپاتے ہیں۔ ایک طرف بے روزگاروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور دوسری طرف بے روزگاری بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے کا توازن بگڑتا جارہا ہے۔ غریبی ومفلسی معاشرے کے لیے ناسور بنتے جارہے ہیں۔ کیونکہ اعلی تعلیم کی بنیاد پرائمری ایجوکیشن پر ہی ہوتی ہے، آئیے اس کی وجوہات پر غور کرتے ہیں، اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں.۔

تعلیمی پسماندگی کے اسباب:

فنڈ کی کمی: فنڈ کی کمی ہونا ایک بہت بڑی حقیقت ہے، اور جو فنڈ الاٹ کیا جاتا ہے، اس کا صحیح استعمال نہ ہوپانا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ فنڈ کی کمی ہونے کے بعد بہت سارے دیہی علاقوں کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ بجٹ کا تقریبا تیس فیصد حصہ ہائر ایجوکیشن کے لیے مخصوص ہے۔

اساتذہ کی کمی:اساتذہ کا تقرر ایک سیاسی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ فنڈ کی کمی ہونے کے سبب لاکھوں اساتذہ کی جگہ خالی ہیں۔ تقریبا پچاس اسٹوڈنٹس پر ایک ٹیچر لگتا ہے، جس کی وجہ سے تعلیم متأثر ہورہی ہے۔

ایجوکیشن پالیسیز میں کمزوریاں: موجودہ تعلیمی پالیسی حقیقت میں برطانوی پالیسی ہے ، یہ پالیسی امیروں اور بااثر لوگوں کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے، حالانکہ پاکستان کے کچھ شہر معاشی اعتبار سے بہت زیادہ پچھڑے ہوئے ہیں، یہاں پسماندہ اور اقلیتی طبقات کی تعداد زیادہ ہیں۔

ڈراپ آؤٹ: ۲۰۰۴  اور ۲۰۰۵  کی رپورٹ کے مطابق ایک سے پانچ تک کا ڈراپ آؤٹ تناسب ۷۵؍فیصد اور ایک سے آٹھ کلاس تک ۵۸؍فیصد ہے، یہ ڈراپ آؤٹ غریبی اور مہنگی فیس کی وجہ سے ہے، کیونکہ اس عمر میں گھر کی غربت کے سبب پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، اس وجہ سے وہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتا۔

خود غرض اور غیر مؤثر نگرانی: جو باڈی اس کی نگرانی کرتی ہے،وہ حقیقت میں خود غرض واقع ہوئی ہے، اس کے اندر معاشرہ کی خدمت اور اپنے کام کے تئیں وہ خلوص، جذبہ اور لگن نہیں پائی جاتی جس کے نتیجے میں ایک بہترین تعلیمی ماحول پروان چڑھ سکے۔

سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کی مداخلت: ان لوگوں کی مداخلت کے سبب پورا تعلیمی نظام سیاست بازی کا شکار ہوجاتا ہے،یہ سیاست اساتذہ اور طلبہ کے اندر بھی سرایت کرجاتی ہے، جس کے نتیجے میں اسکول ایک سیاسی اکھاڑہ بن کر رہ جاتا ہے۔

دیہی لوگوں کے ان ڈفرنٹ رویے:  ۲ء۷۲؍ فیصد آبادی گاؤں میں بستی ہے، اس لیے گاؤں کے لوگوں کو جب تک تعلیم سے نہیں جوڑا جائے گا تعلیمی نظام کی اصلاح نہیں ہوسکے گی۔


ان مسائل کا حل کیا ہو؟

(۱)

اساتذہ کو پرفیشنل انداز میں تربیت دی جائے اور ان کے اندراحساس ذمہ داری پیدا کیا جائے۔

(۲)

پرائمری ایجوکیشن سسٹم پر نظرثانی کی جائے، اس میں غریبوں کا لحاظ رکھا جائے اور کوالٹی سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

(۳)

نصاب کو از سر نو ترتیب دیا جائے، جو معاشرے کے ہر طبقے کی رعایت کرتا ہو۔(۴) ایک مانیٹرنگ باڈی تشکیل دی جائے،جو اس پورے تعلیمی نظام کا ہمہ وقت جائزہ لیتی رہے۔

(۵)

بالخصوص دیہی علاقوں میں تعلیمی بیداری کی مہم چلائی جائیں اور اقلیتوں کے لیے چلائی جانے والی اسکیموں کا صحیح نفاذ ہو، اور اس کا پروسیس آسان بنایا جائے۔

(۶)

تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے۔

(۷)

پورے ایجوکیشن سسٹم کو ماہرین تعلیم کے حوالے کیا جائے ، نصاب، پالیسی، اور پورا سسٹم ماہرین تعلیم کے ذریعہ ترتیب دیا جائے، اس پورے سسٹم سے سیاسی اثرورسوخ ختم کیا جائے۔

(۸)

یونیورسٹی اور کالج کے اسٹوٖڈنٹس کو تعلیم کے سلسلہ میں حساس بنایا جائے۔ 

Entrepreneur

Leave a Reply