کرپشن کاناسور

کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ جس مریض کو کینسر ہوجائے وہ مریض آہستہ آہستہ موت کے منہ میں جاتا ہے جبکہ اگر کسی معاشرے میں کرپشن کا راج قائم ہوجائے اس معاشرے میں غربت اور بے روزگاری تیزی سے پھیلتی ہے اور وہ معاشرہ تباہ و برباد ہوجاتاہے۔

کرپشن تخت پر بیٹھےحکمرانوں کی گود سےجنم لیتی ہےجو آگے چل کر ریاست کے نظم حکمرانی اور معاشرتی ڈھانچے کو تہہ وبالا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ کرپشن مختلف شکلوں اور انداز سے معاشرے کو چاٹتی اور برباد کرتی ہے۔ مالیاتی بدعنوانیاں اس کا صرف ایک رخ ہیں۔ اس کے سوا بھی کئی شکلیں ہیں، یعنی میرٹ سے انحراف، اقربا پروری کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے اور سماجی انصاف کا قتل کرتا ہے۔

اخلاقی کرپشن سماجی بے راہروی کوجنم دیتی ہے جس کے نتیجے میں سماج بے سمت و بے مہار ہوجاتا ہے جب کہ مالیاتی کرپشن ان سب سے زیادہ خطرناک بدعنوانی ہے، جو ریاست کی معیشت، انتظامی و سماجی ڈھانچے سبھی کو اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے۔اس لیے محب وطن متوشش شہریوں کی یہ اولین ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ کرپشن کے عفریت سے ملک کو نجات دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

بابائے قوم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں قانون سازوں کو جہاں نظم حکمرانی کے اہداف اور اصول و ضوابط سمجھانے کی کوشش کی، وہیں کرپشن اور بدعنوانیوں کی خرابیوں اور اس کے منفی اثرات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں مکمل آگہی دیتے ہوئے کہاتھاکہ کرپشن اور رشوت ایک لعنت ہے۔ مگر جس طرح ہماری حکمران اشرافیہ نے ان کی تقریر کے دیگر مندرجات کو فراموش کردیا، وہیں کرپشن کے بارے میں ان کی ہدایات کو بھی بھلا دیا بلکہ ان کی آنکھ بند ہوتے ہی ہر وہ کام کیا جس کی انھوں نے مخالفت کی تھی۔ یعنی قرارداد مقاصد کے ذریعہ ریاست کے منطقی جواز کو تھیوکریسی کا لبادہ پہنا دیا۔ بدانتظامی اور اقرباپروری کے ذریعہ کرپشن کو نظم حکمرانی کا جزو لاینفک بنادیا۔جس سے جان چھڑانا آج ایک مشکل ترین مرحلہ بن گیا ہے۔

دنیا بھر کے ملکوں میں کرپشن پر نظر رکھنے والے ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں کرپشن میں سوا چار سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جن اداروں کو بدعنوانی کی فہرست میں پہلا درجہ دیا گیا ہے ان میں محکمہ پولیس سرفہرست ہے جبکہ اراضی ، تعلیم ،صحت ، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکس کے محکموں میں کرپشن کی شرح میں کمی جبکہ عدلیہ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ادھرپاکستان کی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے والا توانائی کا شعبہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی دوسرے نمبر پر ہے۔

ہمارے معاشرے کا ہر دوسرا شخص اس بیماری میں مبتلا ہے۔ سیاسی رہنما کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات پر بات نہیں کرتے اور نا ہی اس کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں کرپٹ لوگ موجود ہیں اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اکثر کچھ حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کرپشن کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاستدان ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ چند سیاسی رہنماؤں نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کررکھے ہیں مگر صرف سیاستدانوں پر ملبہ ڈال کر ہم اس مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔

اب تو ہر شعبے اور ادارے میں کرپشن اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ہر صحافی کرپٹ نہیں مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ صحافی بھی کرپٹ ہوتے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات کے لئے کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو سپورٹ کرتے ہیں، ان کی طرف داری کرتے ہیں اور کچھ اینکرپرسن تو یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان ہوں اس کے پیچھے بھی ان کے مفادات ہوتے ہیں۔

رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں ہی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جب ہم رشوت دینا چھوڑ دیں گے اور اپنے کاموں کے لئے قانونی طریقہ کار اختیار کریں گے تو بڑی حد تک کرپشن میں کمی ممکن ہے اور رہا سوال کرپٹ سیاسی رہنماؤں کا تو آئندہ آنے والے عام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے ان تمام کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو رد کریں اور ملک و قوم کے لئے ایماندار اور بہتر نمائندوں کا انتخاب کریں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: