مصبت گھریلو ماحول اور خوشگوار زندگی

پاکستانی معاشرے میں گھر کو ایک بنیادی اساس کی حیثیت حاصل ہے ۔جس میں میاں بیوی اہم ترین محور ہیں ۔ ان کے باہمی تعلقات ہی درحقیقت معاشرے کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں ۔ اگر گھریلو ماحول خوشگوار اور پر اعتماد. ہوگا تو ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے بچے مثبت فطرت کے حامل ہوتے ہیں ۔

اس کے مقابلے میں وہ بچے جو ماں باپ کے باہمی تناؤ میں پروان چڑھتے ہیں ۔ان کی طبیعت میں شدت اور تغریب کا عنصر بہت واضح ہوتا ہے ۔گھریلو ماحول میں تناؤ کے کچھ اسباب ایسے ہیں جن پر نظر ثانی کر کے نہ صرف گھر کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

فرائض کی ادائیگی کا خیال رکھیں

شریعت میں ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا گیا ہے اہ وہ اپنے فرائض ادا کرے حقوق کے مطالبے پر زور نہیں دیا گیا ۔رسول اللہ ّنے بھی اپنی تمام تعلیمات میں ہر ایک کو صرف ان کے فرائض بتاۓ گۓ ہیں ۔ زندگی کی گاڑی اسی طرح چلتی ہے کہ دونوں اپنے فرائص کا احساس کریں ۔ اپنے حقوق کا بار بار تقاضا نہ کریں ۔

مگر بدقسمتی سے آج کی دنیا حقوق کے مطالبے کی دنیا ہے ۔حقوق کے مطالبے کے لۓ تحریکیں چلتی ہیں ریلیاں نکلتی ہیں مگر آج تک کسی نے فرائض کی ادائيگی کے لۓ کوئی تنظیم نہیں بنائی ہو گی ۔گھریلو ماحول کے اندر عدم توازن کی ایک بنیادی وجہ فرائض کی عدم ادائیگی اور حقوق کا تقاضا بھی ہے ۔

ایک دوسرے پر اعتماد کریں

رسول اکرم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا باہمی اعتماد گھر کے ماحول کے لۓ انتہائی لازمی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس امر کا خیال رکھا جاۓ کہ دوسرے فریق پر اعتماد کریں اس کو اس کا یقین دلائیں اسی صورت میں وہ آپ پر بھی اعتبار کرے ۔

آج کل سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو بہت آسان کر دیا ہے وہیں پر اس سبب گھریلو ماحول میں تناؤ کا سبب بھی بنا ہے لہذا اس حوالے سے اس امر کا خیال رکھنا چاہیۓ کہ فریقین اس حوالے سے ایک دوسرے کی پرائیوسی کا خیال رکھیں ۔ زیادہ ٹوہ لینے سے بھی باہمی تعلقات میں دراڑ کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ لہذا اس سے اجتناب برتنا چاہیۓ.

ایک دوسرے کا احترام کریں

آج کی دنیا نے اسلامی قوانین کو فراموش کر کے عورت اور مرد کی مساوات کا جو پرچار کر رکھا ہے اس سبب گھر کے اندر بھی ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ مرد خود کو حاکم سمجھ بیٹھا ہے اور عورت اس حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جس کے سبب تعلقات کھنچاؤ کا شکار ہوتے ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ مرد عورتوں پر نگہبان اور منتظم ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں نے ان کی ذمہ داریوں کے سبب گھر کا امیر مقرر کیا ہے ۔۔ اسی سبب وہ احترام اور عزت کے مستحق ہیں ۔ لیکن اس بات کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس بنیاد پر عورت کو کمتر سمجھیں ۔

ان تمام نکات کا خیال رکھ کر نہ صرف زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بہترین انداز میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے ۔

Leave a Reply