مہنگائی کی لہر اور غریب عوام


ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی آبرو مندانہ روٹی کا حصول مشکل تر ہو گیا ہے اشیائے خورونوش کے نرخوں میں اضافے کے روز افزوں رجحان کے باعث عام شہری کے لیے زندگی اس حد تک مشکل اور وبالِ جاں بن چکی ہے کہ وہ اس سے چھٹکارے کے لئے خودکشی کا مسافر بننے کو آسان سمجھتا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عام صارف اْنہیں دیکھ تو سکتا ہے مگرخرید نہیں سکتا حکمران تمام تر بلند آہنگ دعووں کے باوجودمہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ مئی کے انتخابات کے بعد شہری حلقوں کی جانب سے ان توقعات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکمران گرانی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل اور توانائیوں کو بروئے کا رلائیں گے تا کہ عام شہری کو سستے داموں آٹا، چینی، گھی، تیل، سبزیاں، دالیں، پھل اور گوشت مل سکے اشیائے خورو نوش کا حصول ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے ایک منتخب جمہوری حکومت کے دور میں بھی شہریوں کا بنیادی آئینی حق سے محروم رہنا سمجھ سے بالا تر ہے حکومت کے تمام تر دعوئعں اور وعدوں کے باوجود عوام کو مہنگی چیزیں خریدنا پڑ رہی ہیں، بازار میں جا کر دیکھیں ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے لوگ بے چارے بے یارو مدد گار ہیں اور منہ مانگی قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 65 فیصد بھوک میں مبتلا افراد کا تعلق بھارت، چین، کانگو، بنگلہ دیش، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور پاکستان سے ہے مناسب خوراک کی عدم فراہمی اور ناقص غذا کھانے کی وجہ سے ان ممالک کے بچے عالمی معیار سے کم وزن رکھتے ہیں ان ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ دنیا کا وہ ملک غذائی بحران کا کیوں شکار ہے، جو گندم کی پیداوار میں ایشیا کا تیسرا بڑا، گنا پیدا کرنے والا چوتھا بڑا، کپاس پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں بھی اس کا شمار چوتھے بڑے ملک میں ہوتا ہے پھل ، سبزیاں، بڑا گوشت، چھوٹا گوشت اور انڈوں کی پیداوار میں بھی پاکستان کا نمایاں مقام ہے اجناس خوردنی کی پیداوار میں خود کفالت کے باوجود شہریوں کو یہ اجناس مہنگے داموں کیوں خریدنا پڑتی ہیں اس ضمن میں ضلعی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں تندہی سے ادا کرنا چاہئیں تا کہ اشیائے خورو نوش اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں کسی بھی منتخب حکومت کے پیش کردہ بجٹ کا بنیادی مقصد محصولات کی وصولی کے نظام اور اہداف کو بہتر بنا کر مملکت اور معاشرے کو خوشحال بنانا ہو تا ہے لیکن عام آدمی کے نزدیک بجٹ کا بنیادی مقصد اْسے ریلیف دینا ہے نہ کہ تکلیف۔ مقامِ حیرت تو یہ ہے کہ مئی 2013ء کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے وزیر خزانہ بھی عوام کو کڑوی گولیاں نگلنے کی نوید سنانے والے خود کڑوی گولی کھانے ہسپتال جا پہنچے ہیں مگر جیسے ہی ہسپتال سے نکلے کئی ساتھ کڑوی گولیاں عوام کو دے ڈالی جن میں بجلی کی قیمت میں آضافہ،سی این جی گاریوں کے لئے گیس کی غیر معیانہ مدت کی بندش شامل ہیں ۔ماضی کے وزرائے خزانہ کی جانب سے مہنگائی، غربت اور مسائل کے ڈسے عوام کو موقع بہ موقع ایک تسلسل کے ساتھ یہ تلقین کی جاتی رہی کہ وہ کڑوی گولی نگل لیں عوام کامقدر تو ہر دور میں کڑوی گولیاں ہی نگلنا رہا ہے بجٹ پیش کرنے سے قبل وزیرخزانہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ’اشیائے ضروریہ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا دالیں اور سبزیاں اشیائے ضروریہ کے زمرے میں نہیں آتیں؟ کیا ان کا شمار پرتعیش اشیاء میں ہوتا ہے؟اشیائے ضروریہ اور اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں بے قابو اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں جن میں سب سے پہلے جنرل سیلز ٹیکس میں ہونے والا اضافہ اور دوسری بڑی وجہ ضلعی حکومتوں کے ذمہ داروں کی نا اہلی ہے۔

جس سے گرانفروشوں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کی چاندی ہوتی ہے۔ مجسٹریسی نظام میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کا ذکر تو فائلوں میں پایا جاتا ہے لیکن وہ بازاروں میں اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے دیہاتوں اور قصبوں کا تو ذکر ہی کیا ہمارے ہاں تو بڑے شہروں میں بھی صارفین کی بااختیار تنظیمیں موجود نہیں ہیں مارکیٹ کمیٹیاں بھی اشیائے خورو نوش کے نرخ نامے کی تقرری کے معاملے میں لاپروائی سے کام لیتی ہیں-

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر حکومت ایک پرائس کنٹرول کمیٹی قائم کرے جس میں علاقے کے اچھے شہرت رکھنے والے شہریوں کو اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے کا اختیار دیا جائے یہ کمیٹی اس حد تک بااختیار ہو کہ مقامی تھانہ بھی اس کی نشاندہی پر ناجائز منافع خوروں، گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حسب قواعد و ضوابط تادیبی کارروائی کر کے اْنہیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے گرانفروشوں کو کھلی چھوٹ دینے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے اور مہنگائی کا یہی گراف رہا تو عوامی اختساب کے وقت موجودہ حکومت کے نمائندے یہی کہتے نظر آئیں گے کہ عوام کے ووٹ ہمیں نہ ملنے کی کوئی بڑی وجہ ہمیں نظر نہیں آتی اس لئے حکومت کو چاہیے کہ تمام برائیوں کی جڑ مہنگائی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ غریب آدمی بھی اس دور میں اپنے لئے ضروریات زندگی کو اسانی سے پورا کر سکے

Leave a Reply