مشرق کی عورت

عورت کو اپنی تعریف کرنے والے مرد پر یقین نہیں آتا مگر وہ ہمیشہ اپنی تعریف سُننے کی خواہاں رہتی ہے، اپنی تعریف کرنے والا اسکی نظر میں مشکوک ٹہر جاتا ہے، لیکن یہ بات عام مردوں کے لیئے ہے مگر بات جب خاص الخاص خود شاعرِ مشرق نے کی ہے کہ “وجودِ زن سے ہے تصویرِکائنات میں رنگ” تو جناب ہم مان لیتے ہیں کہ واقعی ہم قابلِ تعریف ہیں ، اور جب ہماری تعریف کی انتہا خود شاعرمشرق کر چکے ہیں تو ہماری تعریف کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا مگر پھر بھی عورت ہونے کی حیثیت سے کچھ بولنے پر خود کو حق بجانب سمجھتی ہوں۔
عورت یوں تو چار حرفی لفظ ہے مگر عورت بس ایک لفظ نہیں ہے بلکہ مصورِ کائنات کا حسین ترین شہکار ہے، عورت کے دم سے قائم جہاں میں رونق ہے، مجسمہ پیکرِ وفا ہے۔ ہمت و ایثار کی دیوی ہے۔ عورت زندگی کی ہر بازی جیت سکتی ہے مگر اپنوں کے سامنے وہ حق بات پر بھی ہتھیار ڈال دیتی ہے ، اور وہ جن اپنوں کی لیئے خود کو خاک کرتی ہے من کی خواہشات کا گلہ گھوٹتی ہے، وہی اپنے امتحان لیتے ہیں اور کڑا امتحان لیتے ہیں اور کوئی رعائت اسے نہیں دیتے اورآزمائش پر اتر آئیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں مرد کی ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری اپنی عورتوں کی حفاطت کرنا بھی ہوتا ہے نہ کہ عورت کو غلام سمجھ کر اس پر حکومت کرنا، اگر اسے فاتح بننے کا شوق ہے تو دنیا فتح کرئے عورت کو تو وہ اپنی محبت سے ہی فتح کرسکتا ہے۔مردوں کو سمجھ لینا چاہیئے کہ عورت اُنکے پاس ایک درخت کی مانند ہے جسے محبت کا پانی دے کر خود اپنے لیئے محبت بھرا وجود پروان چڑھاؤ یا اسے تکلیف دے کر اپنے اسی درخت کو جو تمھیں ہر حال میں سایہ دینے کو تیار رھتا ہے کو مُرجھا دو۔ 

محبت کی دیوی کواکثر ذرا سی غلطی پر تمام عمر کیلئے سزا کے تختے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔ اُس معصوم کی غلطیاں، نادانیاں یہاں تک کہ وہ آنسو بہانے پر بھی موردِالزام ٹہرتی ہے نہ صرف موردِالزام ٹہرتی ہے بلکہ سزا کے طور پر مردوں کی پیروں کی دھول بھی بن رہی ہوتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ عورتوں پر ہاتھ اُٹھانے والے مرد نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسی ذی روح ہیں جنہیں اپنی جگہ جانے کا ڈر ہمیشہ ستاتا ہے۔ ایسے مرد احساسِ کمتری کے مارے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں لگتا ہے کہ اگر عورت کو محبت دی گئی تو وہ کہیں انکی جگہ چھین کر مردانگی کے مرتبے پر نہ فائز ہو جائیں اور اُنہیں مردانگی کی لسٹ سے نام خارج کروانے پر مجبور نہ کر دیں ۔ جبکہ وہ نہیں جانتے کہ عورتیں تو محبت دینے کی لیئے ہوتی ہیں جتنی محبت دو کہ جواباً اُتنی ہی عزت پاؤ گے۔

عورت کھلونا نہیں بلکہ احساسات کی وہ مشین ہے جو ہر سو محبت کاشت کرنے کی تگ ودو میں ہلکان ہوتی رہتی ہے۔ وہ ہر درد بھرا احساس محسوس کرکے خود ہی کو مارتی ہے ، خود ہی روتی ہے۔ محبت ناکام ہو تو بھی سامنے والے کو بےوفائی پر الزام دینے کہ بجائے وہ خود ہی کو ناکام ، ناکارہ مان کر قسمت سے شکوہ کناں رہتی ہے۔ عورت نام ہے محبت کا ،ہمت کا ، اعتماد کا ، ایثا ر کا، وفا کا،حیا کا، عورت کی قدر کی جیئے کہ اگر ماں کے روپ میں ہے تو تمھیں جنم دینے والی ہستی وہی ہے، بہن کے روپ میں ہے تو تمہارا مان ہے، بیوی کے روپ میں ہے تو تمھاری نسل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اُسی کے سر ہے اور اگر بیٹی ہے تو تمھاری گھر کی رحمت ہے آخری بات یہ کہ عورت ہرحال میں عزت ومحبت کی مستحق ہے حقدار ہے ، سو محبت کیجئیے عزت دیجئیے کہ وہ آپکے آرام و سُکون کا باعث ہے اگر آپ اس کے اہل ہیں تو۔۔۔ ۔

Leave a Reply