مصبت گھریلو ماحول اور خوشگوار زندگی

پاکستانی معاشرے میں گھر کو ایک بنیادی اساس کی حیثیت حاصل ہے ۔جس میں میاں بیوی اہم ترین محور ہیں ۔ ان کے باہمی تعلقات ہی درحقیقت معاشرے کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں ۔ اگر گھریلو ماحول خوشگوار اور پر اعتماد. ہوگا تو ان کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے بچے مثبت فطرت کے حامل ہوتے ہیں ۔

اس کے مقابلے میں وہ بچے جو ماں باپ کے باہمی تناؤ میں پروان چڑھتے ہیں ۔ان کی طبیعت میں شدت اور تغریب کا عنصر بہت واضح ہوتا ہے ۔گھریلو ماحول میں تناؤ کے کچھ اسباب ایسے ہیں جن پر نظر ثانی کر کے نہ صرف گھر کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

فرائض کی ادائیگی کا خیال رکھیں

شریعت میں ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا گیا ہے اہ وہ اپنے فرائض ادا کرے حقوق کے مطالبے پر زور نہیں دیا گیا ۔رسول اللہ ّنے بھی اپنی تمام تعلیمات میں ہر ایک کو صرف ان کے فرائض بتاۓ گۓ ہیں ۔ زندگی کی گاڑی اسی طرح چلتی ہے کہ دونوں اپنے فرائص کا احساس کریں ۔ اپنے حقوق کا بار بار تقاضا نہ کریں ۔

مگر بدقسمتی سے آج کی دنیا حقوق کے مطالبے کی دنیا ہے ۔حقوق کے مطالبے کے لۓ تحریکیں چلتی ہیں ریلیاں نکلتی ہیں مگر آج تک کسی نے فرائض کی ادائيگی کے لۓ کوئی تنظیم نہیں بنائی ہو گی ۔گھریلو ماحول کے اندر عدم توازن کی ایک بنیادی وجہ فرائض کی عدم ادائیگی اور حقوق کا تقاضا بھی ہے ۔

ایک دوسرے پر اعتماد کریں

رسول اکرم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا باہمی اعتماد گھر کے ماحول کے لۓ انتہائی لازمی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس امر کا خیال رکھا جاۓ کہ دوسرے فریق پر اعتماد کریں اس کو اس کا یقین دلائیں اسی صورت میں وہ آپ پر بھی اعتبار کرے ۔

آج کل سوشل میڈیا نے جہاں رابطوں کو بہت آسان کر دیا ہے وہیں پر اس سبب گھریلو ماحول میں تناؤ کا سبب بھی بنا ہے لہذا اس حوالے سے اس امر کا خیال رکھنا چاہیۓ کہ فریقین اس حوالے سے ایک دوسرے کی پرائیوسی کا خیال رکھیں ۔ زیادہ ٹوہ لینے سے بھی باہمی تعلقات میں دراڑ کی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ لہذا اس سے اجتناب برتنا چاہیۓ.

ایک دوسرے کا احترام کریں

آج کی دنیا نے اسلامی قوانین کو فراموش کر کے عورت اور مرد کی مساوات کا جو پرچار کر رکھا ہے اس سبب گھر کے اندر بھی ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ مرد خود کو حاکم سمجھ بیٹھا ہے اور عورت اس حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جس کے سبب تعلقات کھنچاؤ کا شکار ہوتے ہیں ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ مرد عورتوں پر نگہبان اور منتظم ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں نے ان کی ذمہ داریوں کے سبب گھر کا امیر مقرر کیا ہے ۔۔ اسی سبب وہ احترام اور عزت کے مستحق ہیں ۔ لیکن اس بات کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس بنیاد پر عورت کو کمتر سمجھیں ۔

ان تمام نکات کا خیال رکھ کر نہ صرف زندگی کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو بہترین انداز میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے ۔

پاکستان میں پارک کی کمی

پاکستان میں 29 محفوظ علاقوں ہیں جو قومی پارکوں کے نام سے مشہور ہیں (اردو: پاکستان کی ملی باغ). 2012 میں، ان میں سے 22 متعلقہ صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں ہیں اور باقی نجی دیکھ بھال میں ہیں ان میں سے کچھ صرف کے تحفظ کے گنجائش کے تحت ہیں. پاکستان کے ماحول کے تحفظ اور تحفظ کو 1973 کے معاون آئین میں شامل کیا گیا. نتیجے میں، ماحولیاتی تحفظ آرڈیننس 1983 میں نافذ کیا گیا تھا جس میں بنیادی طور پر ماحولیاتی اور شہری معاملات ڈویڑن کی طرف سے منظم کیا گیا تھا. بعد میں، ‘جدید محفوظ شدہ علاقوں’ کے قانون سازی کا ایک نیا نظام صوبائی سطح پر شروع ہوا جس نے محفوظ علاقوں کو قومی پارک، وائلڈ لائف کے پناہ گزینوں اور کھیل کے ذخائر کے طور پر نامزد کئے. 1986 کے Iجائزہ میں انڈومالیا ایون زون کے قومی پارکوں کی مزید سفارشات کو نمایاں کااس کے باوجود، قومی پارکوں کی ترقی بنیادی طور پر 1992 کے نیشنل کنسرٹ کی حکمت عملی کی طرف سے کی گئی تھی. جیو ویودتا کے تحفظ میں ان کی اہمیت کے بارے میں مزید آگاہی کی وجہ سے، 1993 سے 2005 تک وقت کے دوران 10 قومی پارک قائم کیے گئے ہیں.
تاہم، اس صورتحال کو شہر کے نوجوانوں کے ارد گرد تبدیل کر دیا گیا ہے، جو ان کے ہمراہ کام اور قرارداد کے ذریعہ، ان پارکوں کا سامنا بدل گیا ہے. ان کی کوششوں کی وجہ سے، خاندانوں کو اب ایک بار چھوڑ دیا پارکوں پر زور دیا.

پارکوں کے سیکشن کے عملے کے بارے میں تشویش کی کمی شہر کے نوجوانوں کو ان پارکوں کے بہتر بنانے کے لئے کام کرنے کی طرف اشارہ کیا. ان کی کوششوں نے پھل پیدا کیا ہے اور ایک بار کمپیٹ پارک اب خوبصورت جگہ بن گئے ہیں جہاں خاندان اپنے وقت خرچ کرنے کے لئے آتے ہیں.
وسائل کی محدود دستیابی کے ذریعے سخت کام کے ذریعے، علاقے کے نوجوانوں نے ثابت کیا ہے کہ تبدیلی کے ل?، بہت زیادہ وسائل کے ساتھ اعلی درجے کی پوزیشن میں ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن صرف اس کی ضرورت ہوتی ہے.
بدقسمتی سے، حکام نے ان کالوں کو نظر انداز کر دیا، اور مین ہولوں کو ڈھکنے میں ناکام ہونے پر، فکسٹ ٹیم نے خود مینہول کا احاطہ کیا. ٹیم نے کراچی میں یونیورسل روڈ پر 42،000 مینوں کو مقرر کیا ہے. اس نے 13،000 روپے کی لاگت کی تھی اور اس نے اس کے بعد مقرر کردہ لفظ پینل نے منایا.
انتظامیہ اور رہائشیوں کی نظر انداز کرنے کے بعد، مظفر آباد میں جلال آباد کے تفریحی پارک کے اندر واقع چڑیا چڑھاو بچوں کے ساتھ تقریبا صحرا ہوا ہے جو ایک بار جانوروں کو دیکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے لگے تھے، اب گھر مایوس ہوگئے ہیں.
دیکھ بھال اور حفظان صحت کی کمی کی وجہ سے، چڑیا گھر کے اندر بہت سے جانوروں کو یا تو بیمار بن گیا ہے یا مر گیا ہے. جانوروں کے کیجوں کی صفائی اور حفظان صحت کو یقینی بنانے میں خامیاں بڑی تعداد میں جانوروں کے بیمار بنانے میں بیماریوں کے پھیلاو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں.


بیمار جانوروں کی نظر بھی مایوس مند زائرین ہیں، جن میں سے اکثر بچے ہیں. جانوروں کی غیر موجودگی سے زوجہ کا دورہ کرنے والے بہت سے بچوں کو سختی سے ہٹا دیا گیا. “اس سے پہلے جب ہم یہاں آتے تھے تو وہاں بہت سے پرندوں تھے جو آپ دیکھ سکتے تھے. چڑیا گھر جانے والے لڑکیوں میں سے ایک نے کہا کہ اب وہ یا تو مردہ یا بیمار ہیں.

صاف ہوا
درخت ہوا سے وسیع قسم کے آلودگی کو ہٹا دیں. فضائی آلودگی بعض کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں اور بنیادی سانس کے مسائل کے ساتھ بچے، بزرگ اور کسی پر منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں. یہ بھی ایک موسم گرما کا دن دیکھ کر فاصلہ کم کر دیتا ہے اور انتہائی آلودہ شہروں میں موت کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے.

ہمارے شہروں میں زیادہ اور بہتر پارکوں کی ضرورت صرف ہمارے بارے میں نہیں ہے. ہر پارک میں اپنے ماحولیاتی نظام ہے. وہ بہت سے مختلف جانوروں کے لئے قدرتی رہائش گاہ فراہم کرتے ہیں. جیسا کہ شہریں بڑھتی ہیں، ان جانوروں میں سے زیادہ تر گھروں کے بغیر خود کو تلاش کرتے ہیں. شہروں میں بہت سی بے گھر شہریوں کے لئے پارک محفوظ جگہ فراہم کرتی ہیں.

ہمارے شہر میں صحت مند ترقی کے لئے پارک اہم ہیں، اور مستقبل کے کسی شہر کی منصوبہ بندی کا ایک بڑا حصہ ہونا چاہئے. پارٹس ہر کمیونٹی میں فائدہ اٹھاتے ہیں. وہ معیشت کو فائدہ دیتے ہیں. وہ بہت سے جانوروں کے لئے اہم رہائش گاہ فراہم کرتے ہیں. اور وہ صرف ایک معتبر وجوہات ہیں جو ہمیں اپنے کمیونٹوں میں پارکوں کے لئے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے.

Technology addiction

ہم ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی ہر چیز میں استعمال ہوتی ہے ٹیکنالوجی کی مارکیٹ روزانہ بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے ۔ جس نے پوری دنیا کو سست بنا دیا ہے۔ٹیکنالوجی لوگوں کو تبدیل کر رہی ہے اور اپنا عادی بنا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ لوگ اس کی وجہ سے کتنا متاثر ہورہے ہیں بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ آج ہماری زندگی میں ٹیکنالوجی کی اہم ضرورت ہے مگر ایسا ضروری نہیں۔ ٹیکنالوجی سے زیادہ متاثر اور ناقابل یقین اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بہت مختلف اقسام ہیں لیکن دو جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں ان میں سے ایک ہے سیل فون اور عام طور پر انٹرنیٹ یا کمپیوٹر۔ ان سب آلات کا استعمال کرتے ہوئے سب سے زیادہ اثر آنکھوں کو پڑھتا ہے۔ان کا استعمال غیر معمولی ہے۔ ہائی سکول کے طلبہ وطالبات کو بیماری کا کنٹرول اور روک تھام میں 2017میں سروے کی گئی۔ جس کی رپورٹ کے مطابق ان آلات کا استعمال کرتے ہوئے بچے زیادہ بیمار پڑہے۔

میرے اپنے خیال میں ٹیکنالوجی ایک دروازہ ہے جو مجھے بالکل ایک نئی دنیا میں لاتا ہے۔ یہ ایک تار بھی ہے جو مجھے باہر کی دنیا سے جوڑتا ہے۔ ان آلات سے کافی حد تک مدد ملتی ہے تصویریں کھینچنا ، بلاگ لکھنا، ای میل سینڈ کرنا یا پھر نئی نئی خبریں جاننا۔ جہاں ٹیکنالوجی ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے وہیں کئ حد تک ہمیں نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔ بچوں میں ٹیکنالوجی کے عادی ہونے کے زیادہ ثبوت ہیں۔ جس میں سے ویڈیو گیمز اور کارٹون کا عادی ہونا، بہت عام سی بات ہے۔ بچے کئی گھنٹے تک ویڈیو گیم کھیل سکتے ہیں جس سے ان کی نظروں میں اور دماغی توانائی میں کمی ہوتی ہے۔ صرف بچے ہی نہیں آج کل کے نوجوان بھی ٹیکنالوجی کے عادی ہو چکے ہیں وہ ہر کچھ لمحے میں نوٹیفکیشن چیک کرتے ہیں کہ کوئی نیو اپڈیٹ ،فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ پر تو نہیں آئی تاکہ وہ اپنے لوگوں سے اپ ٹو ڈیٹ رہ سکے۔

ٹیکنالوجی کا استعمال فائدے مند ہے مگر اس کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو ضرورت سے زیادہ ٹیکنالوجی یا انٹرنیٹ کا استعمال کرنے سے روکے تاکہ ان کے آگے آنے والی زندگی میں اس سے عادی ہونے کے اثرات کم ہونے لگے۔

بلوچستان کی خوبصورتی

رقبے کے لحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا پہاڑی سلسلہ گوادر سے لے کر حب چوکی تک آتا ہے بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں میں لاتعداد معدنیات موجود ہیں معدنیات کے علاوہ بلوچستان کے خوبصورت علاقے جیسے کی زیارت قلات خضدار کنڈملیر گوادر جیونی اس صوبے کی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں قلات میں موجود خان اف کلات کا محل پہاڑوں کے درمیان پایا جاتا ہے جہاں پر بلوچستان کے حکمران کا محل ہے جو کہ سیاحوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے خان اف قلات کا کہنا ہے کہ کوئی بھی انسان جو کہ بلوچستان کی ہسٹری جاننا چاہتا ہے اور بلوچستان میں آنا چاہتا ہے اس کے لئے بلوچستان اور خان اف قلات کے محل کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں اور گوادر میں سب سے گہرا پورٹ پایا جاتا ہے دنیا کا سب سے گہرا پورٹ گوادر شہر میں پایا جاتا ہے جو کہ بلوچستان کا ایک حصہ ہے زیارت کی مشہور آبشاریں خوبصورتی اور حیرت انگیز نظر سے بھرے ہوئے ہیں اور استار کے مختلف علاقے جیسے چاروں مچھی اور مولا چٹوک کے آبشار انتہائی خوبصورت اور سیاحوں کے لئے لطف اندوز ہونے کی بہترین مقامات ہیںاس کے علاوہ جیونی میں دنیا کا سب سے بہترین سن سیٹ اور سب سے بہترین سنرائز کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے بلوچستان میں رہنے والی عوام آنے والے سیاحوں کو بڑے بہترین انداز میں خوش آمدید کہتے ہیں بلوچستان میں رہنے والی قوم بلوچ جو مہمان نوازی اور اصول پرستی میں مشہور ہیں اپنے علاقے کی خوبصورتی کا قدر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اتنے خوبصورت اور معدنیات سے بھرے صوبے میں رہتے ہوئے بھی وہ ان معدنیات سے محروم ہیں بلوچستان کے ہیں شہر سوئی میں سے گیس درآمد کی جاتی ہے جو کہ پورے پاکستان میں پہنچائی جاتی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو سوئی کے علاقے کے اپنے لوگ بلکہ پورے بلوچستان کے لوگ گیس سے محروم ہیں یا تو وہ گیس سیلنڈر سے کام چلاتے ہیں یا تو وہ لکڑیوں سے آگ جلا کر اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں لوگوں کو اکثر بات کرتے ہوئے سنا ہے لیکن بلوچستان کے مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا اتنے خوبصورت علاقے میں رہنے والے لوگ اپنے ہی صوبے کی معدنیات سے محروم ہیں۔کنڈ ملیر کے کر بات کی جائے تو کنڈ ملیر ایشیا کے سب سے بڑے نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک میں پایا جاتا ہے جہاں ایک بہترین ساحل سمندر کا منظر پایا جاتا ہے بہترین ساحل کے علاوہ ماں پری ھنگلاج مندر جو کہ ہندوازم کا بہت بڑا مندر بھی ہے جہاں ہر سال بڑی تعداد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آتے ہیں اور اپنے مذہبی فرائض انجام دیتے ہیں مندر اور ساحل سمندر کے علاوہ بلوچستان کے علاقے ہنگول نیشنل پارک میں دنیا کا سب سے بڑا مڈ ویلکینو پایا جاتا ہے ان ساری چیزوں کے علاوہ بلوچستان میں مشہور فاتح محمد بن قاسم کے سپاہیوں کی قبریں بھی پائی جاتی ہیں بلوچستان کی خوبصورتی کو لفظوں میں بتانا ناممکن سے کم نہیں بلوچستان میں اب بھی کچھ علاقے ایسے ہیں جنکو ڈسکور کرنے میں لوگ ناکام رہے ہیں بلوچستان کو لکھنے والوں نے ایک اف سی جنت کا نام دیا ہے ہماری دعا ہے کہ بلوچستان کی خوبصورتی یوں ہی برقرار رہے اور ہمارے دلوں میں بلوچستان کی خوبصورتی کی قدر ہمیشہ قائم دائم رہے

کھیلوں کی اہمیت

دنیا بھر میں کھیلے جانے والے کھیلوں کی تعداد بہت ہے اور دنیا میں ہاکی فٹ بال کرکٹ جیسے کھیل کو دیکھنے کا لوگ کافی شوق بھی رکھتے ہیں لیکن کھیل کو صرف ہمیں دیکھنے تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہیے ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی ان کا حصہ بنے اس کا حصہ بننا صرف تفریح یا وقت گزارنا نہیں ہے بلکہ ہمیں اس سے جسمانی قوت اصل ہوتی ہے۔

 اب کے دور میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آج کے نوجوان باہر جا کے کھیلنا پسند کرتے ہیں اج کی نئی ٹیکنالوجی نے ن کو گھر میں قید کر کے رکھا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو جسمانی اور ذہنی مرض سے گزرنا پڑتا ہے ہر انسانی روح کو تازہ ہوا کی طلب ہوتی ہے جو اس کا ذہن کھولنے میں مدد کرتی ہے کھیل ایک واحد ذریعہ ہے جس سے انسان اپنی ذہنی جسمانی مرض کو مٹا سکتا ہے کھیل انسان کو ایک صحت مند زندگی میسر کرتا ہے جبکہ صحت مند رہنا انسان کے لئے ضروری ہے

کھیل صرف ایک تفریح کا نام نہیں ہے بلکہ یہ صحت مند زندگی گزرنے کا ذریعہ بھی ہے کھیل چاہے انڈورہو یا آئوٹ ڈور انسانی ذہن پر بھرپور اثر کرتا ہے انڈور کھیل جس میں لوڈو، کیریم، اسکوائس، چیز سنوکراور دیگرکھیلے جانے والے کھیل انسانی دماغ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور آئوٹڈور میں کھیلے جانے والے کھیل جیسے فٹ بال باسکٹ بال کر کٹ ہاکی وغیرہ یہ انسان کی دماغی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں اور اور ہمارے جسم کو چست رکھنے میں مدد کرتے ہیں جو انسان جسمانی طور پر فٹ ہو وہ کسی بھی کھیل میں اپنے آپ کو کھیل کے مطابق ڈھال سکتاہے۔

میں آپ کو چاہیے کہ وہ شروع سے ہی اپنے بچوں کو کھیل میں دلچسپی لیناسیکھائیں اور تعلیمی اداروں میں بھی بچوں کو کھیل کے فوائد بتائیں۔

گھر بیٹھے وقت اور صیحت ذایعہ کرنا فضول ہے،ہر انسان کا حق ہے کہ وہ ایک صیحتمند زندگی گزارے اور صیحتمند اور تندرست زندگی گزارنے کا واحد اور آسان ذریعہ کھیلنا ہے،جو انسان کو ذہنی اور جسمانی قوت فراہم کرتاہے۔

Right to Information

Muhammad Abdullah

There are many rights which are given to people all over the world. As the
world is divided into developed and third world countries, likewise the rights
are manipulated by the governments. Many rights have been given to public as United
Nations has taken a great step by announcing sustainable development goals
SDG’s. And strictly put on a responsibility on the nations to work for them and
serve their peoples. As many rights have been given to public and people are
using their rights to get benefits. In the western side of the world
governments and authorities give proper rights to their public and always try
to serve them and control the law and order situation. In Pakistan where there
is a critical law and order situation with grounded economy and worst unemployment
still the provincial assemblies have managed to pass a bill of information by
the name “Right to Information” this bill was presented in every
province of Pakistan including the federal government but somehow federal
government and Baluchistan province has very weak law regarding right to
information.

In province Sindh the bill was passed in 2016, which later become the law by
the name “Sindh Transparency and Right to Information Act 2016”. In
2018 the information commission was also established consisted of one Chief
Information Commissioner and two Information Commissioners. In every public and
government office whether it is of any department which comes under government
the authorities are answerable to any queries public makes, basically this law
benefits each and every citizen of Pakistan to question any public and
government department, and they are bound to answer and entertain the public on
their query. To attend the public query Sindh government along with Punjab and Khyber
Pakhtunkhwa government has given an additional charge of information officer in
every government office, whether it is public works department or municipal department
or even agricultural department and information officer is bound to answer a
query within 15 days.

This law also secures the public from personal misbehavior from any
government officials. Authorities have no right to ask a person why he wants to
know about anything they just have to collect the regarding information and
handover to the person asking for information. As the authorities and officials
are bound not to ask questions in return, the public is also bound not to ask
for the information regarding security agencies or law enforcement agencies
plan of work, nature of work or the strategies they have made for the countries
security. But they can get only selected information which is harmless or
secure for the public and nations security.

As RTI has been made two years back and it is fully functional and
implemented, unfortunately people are not aware to use this law. They actually
do not have any idea how useful this law is not for them but for the betterment
of this country. They can question their authorities about the budget they use
for making a road or planting a street light. If the government officials gets
the question they will also start doing correction in their duties and will work
corruption free. Because the answers people will get from the offices they can
use those answers as proof of corruption against them.

Right to Information is a strong tool for the people of Pakistan to come
forward and use RTI to make Pakistan stronger and corruption-free state. Our youth
can take initiative to raise the voice for RTI and start questioning the
authorities how they are working, and how much they spend the money they are
getting in terms of budget. Here is one thing which every Pakistani should
remember always that the government is using your money to facilitate you! It is
you who are paying taxes by which they are getting their salaries every month. It
is you who have to raise the voice and ask them how they are working.

 

 

 

VALUE OF ART

Art an unsolved mystery in Pakistani culture, instead of understanding the value of art, people in Pakistan give silly names to the artists, instead of supporting the art in people, Society calls that art as the bad habits like singing ,acting, dancing etc. history says everyone is an artist. But everyone can not face the fear to bring out the art in them, this is just because of the negative mind sets of people in society.

Lack of art has destroyed the development aspect in Pakistan. Artists are doing the jobs they do not like to do that is why the departments working for the government are failed to function well. Some artists have taken out their artistic side out and are working in their field, they are not getting the support and respect because of which they are not well stable in their finance.

To understand the value of art , academics should include art related subjects from the primary stage just like developed countries. Because there in Pakistan people believe the academics ether it is wrong or right just like the war in 1973 between Pakistan and India. In Pakistani books Pakistan has won the war and in Indian books India is the winner.Not understanding the art has brought us to a condition where we are not able to identify the thing by our own, we are dependent on others opinions, very short number of people are successful to generate their own perceptions and opinions they are the people who love art. An artist said “If you love art, do not visit pakistan”. after reading this statement an art loving personality will absolutely be hurt and this is right. We Pakistani people do not respect art do not take care of art do not support art this is the only reason we are under development from the decades.

دیہاتی زندگی


پاکستان میں بہت سے دیہات گاؤں قصبے اور شہر پہ جاتے ہیں جو کہ اپنے کسی نہ کسی خوبی کی وجہ سے مشہور معروف ہیں پاکستان کے دیہات کی زندگی بہترین زندگی ہوتی ہے ہر چند کیہا سہولیات شیر کی طرح میسر نہیں ہوتی ہیں مگر دیہات خالص اب ہوا اور خالص اور خوراک ہوتی ہےدیہات میں کھلی فضا کا ماحول ہوتا ہے اسی لئے دیہات میں رهنے والوں کی صحت بہت اچھی ہوتی ہے دیہات م پانی اور تعلیم کی مسائل بہت ہوتے ہے پھر بی وو اپنی کوششیس جاری رکھتی ہے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کرتے ہے ہر دکھ سکھ م ایک دوسرے کا ساتھ ڈٹے ہے دیہات کی زندگی ایک شہر سے بہتر ہوتے ہے ہر خدمات میں پیش پیش ہوتے ہیں وہ کی لوگ ایک دوسرے پر جان نشور کرتے ہے وہ کا پیار اور بات کرنے کا انداز ان لوگو م بے انتہا محبّت ہوتی ہے دیہات م اتنی سہولیات تو نہیں ہوتی جو کوئی کم کر سخی ۔ دیہات م نا لائٹ ہوتی ہے نا گیس پھر بی وو اچھی طرح زندگی بسر کرتی ہے وہ کے لوگ بوہت صحت مند ہوتے ہے کی میل پیڈل سفر کرتے ہے ۔
کبھی اتفاق سے دیہات جانا ہو تو وہ کی ک لوگ اور وہ ک ہریالی اور وہ کے لوگو کا پیار آپ کبھی نہیں بوھلے گے وہ پے ہر جگا ہستی مسکراتے لوگ ملیں گے دیہات م کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا وہ پے ہر بندے کی عزت اور احترام کیا جاتا ہے دیہات کی گھر بوہت ہی بارے اور الشان ہوتے ہے دیہات م لوگ ہمیشہ خوش اور شکّر کرتے ہے وہ پی بہنس بکری بی ہوتے ہے ہر کوئی سکوں کی زندگی بسر کرتا ہے۔

دیہات کی لوگ شہر انے پی گھٹن محسوس کرتے ہے وہ کی بلند عمارتی اور رش دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہے دیہات ک لوگ زندگی م سکوں چاہتے ہے اور ان کو دیہات م ہی ملتا ہے دیہات کی لوگ دوسرو کی پریشانی کو اپنی سمجھتے ہے وو کبھی کسی سے جھوٹ نہی بولتے وو عزت اور احترام سے رہتے ہے۔

HEALTH IS WEALTH

HEALTH IS WEALTH

Health is a state of complete physical, social and mental well-being and not simply the absence of disease or illness. Health is, therefore, a level of functional efficiency of living beings and a general condition of the mind, body and spirit of a person, which means that it is free of disease, injury and pain. It is a resource of everyday life and a positive concept that emphasizes physical abilities.

Good health is a secret of every happy man. Staying healthy for children is vital for the proper growth and development of the mind and body, as they need to focus on the class and participate fully in activities in the field. Parents should take their children to the medical examination and learn from the experts about their development in terms of height and weight, as it has a great impact on their performance and overall efficiency. If you are strong and healthy, you can be a shining example for others and teach them how to achieve vibrant health.

Good health is a cause of great concern, to maintain it, a healthy life and a disciplined life is a necessity. One of the best ways is to drink plenty of water, as it reduces the risk of infection, keeps skin healthy, reduces the risk of heart attack, burns body fat and regulates body temperature. We should sleep well since it relaxes our body and reduces stress. We need to have a balanced diet and take long, energetic walks. Our motto should be to keep our bodies clean to keep us healthy. We should laugh more, because laughing is a therapy and a secret of good health. The government must include health programs integrated into its public policies and control specific health problems.. Keep healthy foods

Food plays an important role in the human body. Good and fresh food keeps the body fresh and active. If you want to stay always young and do not want to age before age, try to eat the vegetables as much as you can. Fruit is also the type of wealth for your health. Some people are not like fruits, but fresh fruits and vegetables produce fresh blood in their bodies.

 DAILY EXERCISE

Sleeping all day at home in front of the television or laptop makes the man lazy and sick. The human body needs little exercise to be healthy and rich. During exercise, all parts of the body work fast and blood circulation is also fast. Due to the rapid circulation of blood there is a large amount of sweat in the body. With this sweat many other germs are outside the body.

As we have all been here since our childhood about the statement that “health is wealth”. It has a very literal meaning that good health is more than important for money. There is nothing that has blessed us so that we are stable throughout life, except good health. People who are not in good health are very poor even if they have a lot of money. They can not buy good health, however they can maintain good health by using their money. People must follow a healthy lifestyle to obtain good health. People who are not involved in healthy lifestyle can suffer from a variety of health disorders such as overweight, high blood pressure, obesity, heart disease, obesity, diabetes, high cholesterol, kidney problems, liver disorders and many more.

The smoke-free legislation in the UK dates from July 2007, but while this is a recognized success, the emergence of shisha bars and cafes is challenging attempts to control the smoking environments in these facilities, often in an area. outside ‘closed and poorly ventilated. At the beginning of last year, 600 shisha coffees were registered in the United Kingdom, and only 25% recognized that exposure to carbon monoxide and particles is a problem, according to a survey conducted in Birmingham. The use of electronic cigarettes has also increased. In recent years, without legislation that prohibits it in public areas. While many health care trusts have forbidden them in health facilities, more than half of respondents in a hospital in northeastern England were unaware of the trust policy and few had challenged those who used an electronic cigarette device.

The objective of 5% of Public Health of England for the daily intake of free energy of sugars has been well received, although the goal of 10% of the World Health Organization (WHO) has not yet been reached. A review on this diet topic concluded that it is feasible to reduce the current intake level, although not to 5% in the near future.9 The multiple strategies required include the use of alternative sweeteners, smaller portions and clearer guidance. Pharmacists have a role in promoting less-obese diets, as do slimming organizations: The Healthy Living Pharmacies (HLP) in Durham achieved impressive results through an integrated approach.10 It seems that the old advice on “everything in moderation “they still need repetition All rich in health.

ناول حاصل کا تنقیدی جائزہ

ایک لمہ بس باقی سب کچھ گزر جاتا ہے وہ ایک لمحہ جو ٹھہر جاتا ہے نا وہی زندگی کو ایسا بدل کر رکھ دیتا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ ساری تبدیلیاں کیسے ہوگئی ہم دیکھتے رہ جاتے ہیں اور وقت ہاتھ سے ریت کی طرح فھسنل جاتا ہے اور بس باقی رہ جاتا ہے تو صرف پچھتاوا اور پچھتاوا بہت تکلیف دیتا ہے پل پل لمحہ لمحہ انسان جیتا اور مرتا ہے یہ پچھتاوا وہی ہے جو وقت نکل جانے کے بعد ہر انسان کو ہوتا ہے اور ایسا ہی حدید کے ساتھ ہوا جی ہاں میں اسی مرکزی کردار جدید کی بات کر رہی ہوں جوحاصل ناول کا ایک مرکزی کردار ہے جو نفرت حقارت اور دھوکے کھاتے کھاتے مکمل طور پر ٹوٹ گیا ہے جب میں نے یہ ناول پڑھا تو اس کی تحریر پر میری آنکھیں نم ہوگئیں اور بہت مشکل لگا کہ میں اس ناول کو پورا پڑھ سکو گی؟ یہ میرے لیے بھی ایک سوال تھا

یہ ناول دو مرکزی کردار ثانیہ اور جدید پر مشتمل ہے جو مذہب کو ایک دھوکہ اور فریب سمجھتے ہیں

اور زندگی کے حالات سے تنگ آکر دوسرے مذاہب میں زندگی کا سکون تلاش پڑتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جب اندرونی سکون نہ ہو تو دنیا کے کسی بھی مذہب میں زندگی کا سکون تلاش کرنا ایک دھوکا ہے اس ناول کے کردار دلچسپ ہیں  اور مصنفہ حمیرا احمدکا طریقہ اس ناول کی حقیقی جان ہے یہ کہانی

منحصر مذہب پر اور مصنفہ سے اس تحریر کے ذریعے ہمیں ہمارے اور اللہ کے درمیان تعلق کو یاد لاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مشکل میں ہوتے ہیں تو اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کے آگے گڑگڑا کر دعا مانگتے ہیں اس ناول میں بھی اس طرح کے مختلف کردار ہیں مگر جو کردار مجھے پسند آیا وہ ثانیہ کیوں کے اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں غلط ہے اور وہ ہی  حدیدکو بھی صحیح راستہ دکھاتی ہے اور اسے سمجھاتی ہیں کہ حالات کیسے بھی ہوں ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیےتبہی ہم سکون حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی دی ہوئی نعمت جان سکتے ہیں

اور میں اس کہانی سے بہت لطف اندوز ہوئیں اس کہانی میں زندگی کی ہر پہلو کو واضح طور پر دکھایا گیا ہیں کہ کس طرح انسان سکون امن اور خدا کی تلاش میں کن مراحل سے گزرتا ہیں۔