Technology addiction

ہم ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی ہر چیز میں استعمال ہوتی ہے ٹیکنالوجی کی مارکیٹ روزانہ بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے ۔ جس نے پوری دنیا کو سست بنا دیا ہے۔ٹیکنالوجی لوگوں کو تبدیل کر رہی ہے اور اپنا عادی بنا رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ لوگ اس کی وجہ سے کتنا متاثر ہورہے ہیں بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ آج ہماری زندگی میں ٹیکنالوجی کی اہم ضرورت ہے مگر ایسا ضروری نہیں۔ ٹیکنالوجی سے زیادہ متاثر اور ناقابل یقین اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی بہت مختلف اقسام ہیں لیکن دو جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں ان میں سے ایک ہے سیل فون اور عام طور پر انٹرنیٹ یا کمپیوٹر۔ ان سب آلات کا استعمال کرتے ہوئے سب سے زیادہ اثر آنکھوں کو پڑھتا ہے۔ان کا استعمال غیر معمولی ہے۔ ہائی سکول کے طلبہ وطالبات کو بیماری کا کنٹرول اور روک تھام میں 2017میں سروے کی گئی۔ جس کی رپورٹ کے مطابق ان آلات کا استعمال کرتے ہوئے بچے زیادہ بیمار پڑہے۔

میرے اپنے خیال میں ٹیکنالوجی ایک دروازہ ہے جو مجھے بالکل ایک نئی دنیا میں لاتا ہے۔ یہ ایک تار بھی ہے جو مجھے باہر کی دنیا سے جوڑتا ہے۔ ان آلات سے کافی حد تک مدد ملتی ہے تصویریں کھینچنا ، بلاگ لکھنا، ای میل سینڈ کرنا یا پھر نئی نئی خبریں جاننا۔ جہاں ٹیکنالوجی ہمیں فائدہ پہنچا رہی ہے وہیں کئ حد تک ہمیں نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔ بچوں میں ٹیکنالوجی کے عادی ہونے کے زیادہ ثبوت ہیں۔ جس میں سے ویڈیو گیمز اور کارٹون کا عادی ہونا، بہت عام سی بات ہے۔ بچے کئی گھنٹے تک ویڈیو گیم کھیل سکتے ہیں جس سے ان کی نظروں میں اور دماغی توانائی میں کمی ہوتی ہے۔ صرف بچے ہی نہیں آج کل کے نوجوان بھی ٹیکنالوجی کے عادی ہو چکے ہیں وہ ہر کچھ لمحے میں نوٹیفکیشن چیک کرتے ہیں کہ کوئی نیو اپڈیٹ ،فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ پر تو نہیں آئی تاکہ وہ اپنے لوگوں سے اپ ٹو ڈیٹ رہ سکے۔

ٹیکنالوجی کا استعمال فائدے مند ہے مگر اس کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو ضرورت سے زیادہ ٹیکنالوجی یا انٹرنیٹ کا استعمال کرنے سے روکے تاکہ ان کے آگے آنے والی زندگی میں اس سے عادی ہونے کے اثرات کم ہونے لگے۔

Leave a Reply