Written By: Muhammad Haris Haider

تم کتنے اچھے باپو ہو

بچے من کے سچے ہوتے ہیں ، ایک بچے کا واقعہ ہے جو ہندوستان کے ایک مشہور شہر کے مضافات میں اپنے والدین کے ساتھ ایک کھولی میں رہتا تھا۔ اس کا والد دیہاڑی دار مزدور تھا۔ دیہاڑی دار مزدورں کے بیوی بچے شام کو اپنے والد کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ کچھ کما کر لائے گا تو چولہے میں آگ جلے گی ۔ چولہے کو جو نسبت پیٹ سے ہوتی ہے ۔ غریب خاندانوں کو وہی نسبت اپنے باپ سے ہوا کرتی ہے۔ مگر ہم جس بچے کا قصہ آپ کو سنانے لگے ہیں اس کا مسٗلہ پیٹ کے لیے روٹی سے بڑھ کر تھا۔ پہلے تو اس نے اپنا مسٗلہ اپنی ماں کو بتایا مگر جلد ہی اسے سمجھ آ گئی کہ اس کے مسٗلے کا حل ماں کے پاس ہے ہی نہیں۔ اس نے اپنے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا باپ دیر سے گھر آتا تھا عام طور پر وہ سو چکا ہوتا تھا۔ جن گھروں مین بجلی نہیں ہوتی وہاں رات سورج غروب ہوتے ہی اتر آتی ہے۔مگر وہ باپ کا انتظار کر رہا تھا۔ جوں ہی اس کا باپ کھولی میں داخل ہوا وہ دوڑ کر باپ کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گیا۔ باپ کی پورے دن کی تھکاوٹ اتر گئی ۔ ادہر ہی بیٹھ کر باپ نے پورے بدن کا پیار سمیٹ کر اپنے ہونٹوں پر جمع کیا اور بیٹے کو چوم لیا۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب چاہتوں کو قبولیت بخشی جاتی ہے ۔ بڑے فیصلے ایسے ہی جذبانی لمحات میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ یہی لمحہ تھا جب بیٹے نے ْ سائیکل ْ کا مطالبہ باپ کے سامنے رکھا۔ باپ نے ہاں کر دی ۔ بیٹا سکون کی اور باپ تکھن کی نیند سوگیا ۔ صبح ہوئی باپ کام پر چلا گیا ۔ شام ہو گئی ۔ باپ کام سے گھر واپس پہنچا تو بیٹے کو منتظر پایا مگر آج انتطار سائیکل کا کیا جا رہا تھا۔ بیٹے نے باپ کو کل والا وعدہ یاد دلایا ۔ باپ کو احساس ہو گیا کہ بیوی سے کیے گئے وعدے اور بیٹے سے کیے گئے وعدے مین بہت فرق ہوتا ہے۔ بیوی تو اس کی تھکن کو ہی دیکھ کر سارے وعدے بھول جایا کرتی تھی۔ جو کسر رہ جاتی خاوند کے پسینے والے کپڑے دھوتے نکل جاتی ۔ اس کو ادراک ہو گیا تھا کہ کیا ممکن ہے اور کیا نہیں مگر بچہ ادراک سے واقف ہی نہ تھا۔ اس کو تو صرف یہ یاد تھا کہ اس کے باپ نے اسے سائیکل لے کر دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہر شام کو اس کے من میں امید کے پھول کھلتے اور رات کو باپ کے آنے کے بعد مرجھا جاتے۔ ہفتوں بیت گئے ۔ جب خواب بکھرتے ہیں تو انسان کے اندر ، خواہ ، بے ادراک بچہ ہویا عقل مند مردو زن ، اس کے اندر ایک بغاوت جنم لیتی ہے ۔ بغاوت ایک لمحے کا فیصلہ نہیں ہوا کرتی ۔ بغاوت کا پس منظر ہوا کرتا ہے ۔ محرومی باغیانہ خیالات کو جنم دیتی ہے۔ محرومیوں کی طوالت باغیانہ خیالات کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ ایک لاوہ ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا مگر انسان کے اندر ایک بھٹی جل رہی ہوتی ہے جہاں کچے خیالات پک رہے ہوتے ہیں۔ مٹی کی کچی اینٹ اور بھٹی سے پک کر نکلنے والی اینٹ میں ہم نام ہونے کے باوجود بہت فرق ہوتا ہے ۔ کچی اینٹ سخت چیز سے ٹکرا کرمٹی بن جاتی ہے مگر پکی اینٹ حالات کے سرد و گرم کہ سہنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اور سخت مزاحمت سے ٹکرا کر مٹی کا ڈھیر نہیں بنتی بلکہ مزحمت کو پاش پاش کر دیتی ہے۔بچے کے من میں مزاحمت کے خیالات نے جڑ پکڑ لی تھی۔ تین ماہ کے با صبر مطالبے نے بچے کے من میں لاوہ روشن کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ سائیکل لے کر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور ہر رات وعدے کو اگلے دن پر ٹالا جا رہا تھا۔ وقت کی طوالت مزاحمت کے الاو کوایندہن فراہم کر چکی تھی۔ اب بچہ سائیکل کی خواہش کا اظہار نہیں کرتا تھا باپ کو اپنا وعدہ پورا کرنے کی یاد دہانی کراتا تھا۔ اس کو معلوم ہو گیا تھاکہ ماں کی طرح اس کے باپ پر اس کا رونا اثر انداز نہیں ہوتا۔ روٹھ جانا بھی کارگر نہ ہوا۔ یہ کیسا انسان ہے کہ وعدہ کرکے پورا نہیں کر رہا ۔اس سوچ نے بغاوت کے شعلے کو بلند کر دیا تھا۔ اس نے فیصلہ کرلیا تھا۔ اس کے اس فیصلے سے ماں بھی بے خبر تھی ۔ حالانکہ اس دن اس کا باپ بہت دیر سے گھر واپس آیا تھا مگر وہ جاگ رہا تھا۔ اج اس نے باپ سے پوچھنے کا حوصلہ پیدا کر لیا تھا۔ باپ گھر میں داخل ہوا بچے نے اس کی ٹانگوں کو جکڑ لیا۔ باپ نے وہیں بیٹھ کر سارے جسم سے پیار کشید کر کے ہونٹوں پر جمع کرنا شروع کیا کہ اس کے کانوں نے سنا ْ باپو ۔۔ تم ہی میرے باپو ہو ، تم نے سائیکل لے کر دینے کا وعدہ کیا تھا ۔۔ مجھے بتاو میرا کوئی دوسرا باپو ہے جس سے میں سائیکل کا مطالبہ کروں ْ باپ کے جسم سے کشید ہوتا پیار بکھر گیا۔ ْ بتاو میرا دوسرا باپو ہے ْ باپ نے من میں شور اٹھا ْ میں ہی تیرا باپو ہوں ْ مگر اس کی زبان نے ساتھ نہ دیا۔ اٹھا ، الٹے قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا۔ ماں نے کہا تم نے اپنے باپو کو ناراض کر دیا ہے ۔ انھوں نے کچھ کھایا بھی نہیں اور بن بتائے کہیں چلے گئے ہیں۔ باہر اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ ارد گرد کی کھولیوں والے سو چکے تھے ۔ پتہ نہیں رات کا کون سا پہر تھا کہ باپ واپس آیا۔ اس کے کاندھے پر نئی سائیکل تھی۔وہ رات تینوں دیر تک جاگتے رہے۔ صبح باپ کام پر جانے لگا تو اس نے جھک کر بیٹے کے ماتھے کو چوما۔ بیٹا ایک دم اٹھ بیٹھا۔ اس نے باپ کو گلے لگایا ۔ باپ کا منہ چومتا جاتا تھااور کہتا جاتا تھا ۔۔ میرے باپو ،میرے باپو اور باپ کا منہ چومتا جاتا تھا۔ ۔ جب باپ گھر سے نکلنے لگا تو بیٹا اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا ۔ باپ نے بیٹے کو دیکھا دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔۔ ْ میرے باپو ۔۔ تم کتنے اچھے باپو ہو.

Leave a Reply

%d bloggers like this: